خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 40

خطبات طاہر جلد 13 40 وہ یاد کیا تھی یہ ایک ایسے پیارے وجود کا غم تھا جس نے میرے آنسو بہا دیئے اور اس رونے کا سبب میرے پیارے کی یاد تھی۔پھر ایک اور قصیدے میں عرض کرتے ہیں۔کہ طیبہ یعنی مدینے میں میرے محبوب کے روشن آثار ہیں حالانکہ آثار تو مٹ جایا کرتے ہیں مگر میرے محبوب کے آثار وہ نہیں ہیں جو مٹ جائیں وہ ہمیشہ روشن سے روشن تر ہوتے چلے جائیں گے اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔اس حرمت والے گھر کی آیات و نشانات نہیں مٹتے جس میں نبی ہادی کا مبارک منبر ہے جس پر آپ رونق افروز ہوا کرتے تھے اور واضح اور روشن نشانات ہیں اور باقی ماندہ آثار ہیں۔آپ کا گھر ہے جس میں آپ کی مسجد تھی وہاں ایسے کمرے ہیں جن کے درمیان خدا تعالیٰ کی طرف سے نور نازل ہوتا تھا جس سے روشنی حاصل کی جاسکتی تھی ، وہاں ایسے آثار ہیں جو بظاہر اگر چہ کچھ بوسیدہ ہو گئے مگر صلى الله ان میں موجود روشن نشانات نہیں مٹے بلکہ مسلسل نکھرتے چلے جارہے ہیں وہاں میں نے رسول اللہ ہے کی یادگاریں دیکھیں اور آپ کی وہ قبر دیکھی جس میں لحد بنانے والے نے آپ کو مٹی میں چھپا دیا۔پس سب سے زیادہ ذکر کرنے والا وجود جو کائنات میں کبھی پیدا ہوا ، جو اپنے رب کی یاد میں مجسم یاد بن گیا وہ محمد مصطفی ملے تھے اور خود آپ مجسم ذکر بن گئے اور وہ تمام صفات حسنہ خدا سے آپ نے پائیں جو ذ کر کو ابدیت بخشتی ہیں جو ذ کر کو ہمیشہ کے لئے زندہ کرتی ہیں پس صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا ( الاحزاب:57) اے تمام لوگو! جو اللہ کے ذکر کی توفیق پاتے ہو اس ذکر کے ساتھ سب سے بڑے ذکر کرنے والے محمد مصطفی ﷺ کو بھی یاد کر لیا کرو۔بحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا (الاحزاب: 43) اور صبح بھی اس پر درود بھیجا کرو اور رات کو بھی درود بھیجا کرو۔