خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 39

خطبات طاہر جلد 13 39 39 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 جنوری 1994ء کمزوری سے پاک تھا۔الحمد للهِ الَّذى سَوَى خَلْقِي فَأَعْدَلَهُ وَصَوَّرَ صُورَةٍ وَجْهِي فَأَحْسَنَهَا۔"الحمد للهِ الَّذی تمام حمد اللہ ہی کے لئے ہے۔سَوَّى خَلْقِی جس نے میری تخلیق کو موزوں بنا یا وَ صور صورة وجهی اور میرے چہرے کی شکل کو میرے چہرے کے وجود کو خد و خال کو بہت ہی متناسب کر دیا یعنی اتنا متوازن ہے کہ کوئی ایک بھی اس کا خدو خال میں سے کوئی ایک حصہ بھی دوسرے سے ٹکراتا نہیں بلکہ اس سے ہم آہنگ ہوا ہوا ہے اور اسے پھر بہت ہی خوب صورت بنایا ہے۔فَاحْسَنَهَا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مجھے مسلمانوں میں سے بنایا۔نیا پھل کھانے کی بھی آپ دعا کیا کرتے تھے۔بازار میں داخل ہونے کی بھی دعا کیا کرتے تھے غصے اور طیش سے بچنے کی بھی دعا کیا کرتے تھے۔بیمار کو دیکھتے تھے تو اس وقت بھی یاد اللہ ہی آتا تھا۔پس حقیقت یہ ہے کہ تمام دنیا میں جہاں جہاں بھی آثار دکھائی دیتے تھے وہ سب اللہ ہی کے آثار تھے۔پس وہ مضمون جو امراً القیس کا میں نے بیان کیا تھا وہ یہ تھا کہ قِفَا نَبُكِ مِنْ ذِكرَى حَبيبٍ وَمَنْزِلِ بسقط اللوى بين الدخول فحومل کہ اے میرے دو ساتھیو! ظہر و ہم اس محبوب کے ذکر سے کچھ رولیں جس کی منزل پر ہم یہاں ٹھہرے ہیں اور اس کی منزل کے ذکر سے رولیں اس منزل کے نشان تو مٹتے چلے جا رہے تھے اور دن بدن مٹتے مٹتے آخر وہ کلیۂ صفحہ ہستی سے نابود ہو گئے مگر خدا کے حسن کے آثار کبھی مٹنے والے نہیں یہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور یہی حضرت محمد مصطفی یہ ہے کے اپنے آثار کا حال ہے۔دیوان حسان بن ثابت سے حضرت محمد مصطفی امیے کے ذکر پر میں شعر آپ کے سامنے رکھتا ہوں اس سے آپ اندازہ کریں کہ آپ کے عشاق کا کیا حال تھا جب ان آثار کو دیکھتے تھے جو محمد رسول اللہ کے آثار تھے جس طرح اللہ کے آثار دیکھتے ہوئے محمد رسول اللہ کے دل کی کیفیت ہوتی تھی۔ویسے ہی آپ کے عشاق کی کیفیت آپ کے آثار دیکھ کر ہوتی تھی وہ کہتے ہیں۔کہ اے میرے دوستو ! یثرب میں مجھ پر ایک بڑی مشکل رات آئی وہ مدینہ جس میں میرا محبوب رہا کرتا تھا اور ساری رات جگائے رکھنے والے غم نے مجھے آ پکڑا جبکہ سارے لوگ گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔