خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 436
خطبات طاہر جلد 13 436 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 / جون 1994ء آپ اتنا زیادہ جلال میں کیوں آجاتے ہیں۔ایک نے مجھے لکھا کہ جرمنی کے ایک خطبہ کے وقت جب آپ بیان کر رہے تھے تو مجھے ڈر تھا کہ آپ کا ہارٹ فیل نہ ہو جائے اس جوش و خروش کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔اصل بات یہ ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی بات جو آپ کو دکھائی دے رہی ہے بے انتہا وقعت والی بات ہے، بے حد ضروری ہے اور ہماری روحانی زندگی کا مرکزی وجود ہے۔ہماری روحانی زندگی اس بات کو سمجھنے میں ہے کہ اگر اللہ سے محبت ہو تو اللہ کی خاطر کام کرنے والوں سے نفرت ہو ہی نہیں سکتی۔خلیفہ کی بات تو الگ ہے۔وہ لوگ کہتے ہیں ہمیں خلیفہ سے محبت ہے، ہاں ان سے نفرت ہے۔میں کہتا ہوں اگر ان سے نفرت ہے تو مجھے تم سے محبت نہیں ہے تو اللہ نے یہی مضمون تو سمجھایا ہے کہ میری خاطر محبت کرنے والوں پر میری محبت فرض ہو جاتی ہے۔وہ جو میری خاطر اگر مجھ سے محبت ہے، آپس کی محبت نہیں کر سکتے تو میری محبت ان پر ، ان کی مجھ پر، کیسے فرض ہوسکتی ہے۔جب اللہ پر ہی نہیں تو میں کون ہوں؟ میری کیا حیثیت ہے؟ اصل واقعہ ہے کہ یہ جھوٹ ہے۔سچی محبت کی کچی علامتیں خدا نے کائنات کے سب سے بچے بندے کے منہ سے جاری کروا ئیں اور یہ ایک قطعی حقیقت ہے۔آپ جن کو انتظامی تجربے ہیں وہ سارے گواہ ہوں گے، سارے اپنے پرانے تجربوں پر نگاہ ڈال کر دیکھ لیں۔جو سچے مومن ہیں جن کو حقیقت میں اللہ اور رسول سے اور جماعت سے پیار ہے وہ خدا کی خاطر خدمت کرنے والوں سے نفرت کر ہی نہیں سکتے۔جن کے دلوں میں بغض دکھائی دے گا ان کے دلوں میں اسی حد تک اللہ کی محبت میں رخنہ دکھائی دے گا یعنی دکھائی دے نہ دے نتیجہ یہ نکلتا ہے۔پس اس بات کو معمولی نہ سمجھیں۔خدا کی خاطر ایک دوسرے سے پیار کا صرف یہ مطلب نہیں کہ کسی ایک بزرگ کے سامنے ماتھا ٹیک دیا۔وہ ماتھا ٹیکنا تو شرک بھی بن جاتا ہے۔خدا کی خاطر پیار کا یہ ہے اصل مضمون، جس سے آپ کے پیار کی حقیقت کھلتی ہے۔کوئی شخص جس کو آپ جانتے بھی نہیں وہ جو دن رات خدا کی خاطر محبت میں دوڑا پھرتا ہے اور کام کرتا ہے اپنے گھر والوں کو بھلا دیتا ہے آپ اس سے کیسے نفرت کر سکتے ہیں۔نفرت تو کیا اگر آپ کے دل میں طبعی محبت پیدا نہیں ہوتی تو آپ کو خدا کی محبت کا عرفان ہی حاصل نہیں۔پس حقیقت میں یہ ایسی ہی خدمت کرنے والے ہیں جو جماعتوں کو باندھنے کا موجب