خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 437
خطبات طاہر جلد 13 437 خطبہ جمعہ فرموده 10 جون 1994ء بنتے ہیں اور انہی جماعتوں میں برکت پڑتی ہے جو پھر ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں وہ ان کی بات کو ٹھکراتے نہیں ان کو طعنے نہیں دیتے۔وہ جب ان سے خدا کے نام پر کچھ مانگنے کے لئے نکلتے ہیں تو عزت و احترام سے ان کے ساتھ پیش آتے ہیں ان کے شکریے ادا کرتے ہیں، تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے گھر ایک معزز انسان آیا ہے جس کا سفر محض اللہ کی خاطر تھا۔اس نے ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے کوئی اپنی نفسانی غرض کے لئے نہیں، کوئی ہم سے مدد مانگنے کے لئے نہیں، کوئی سفارش کروانے کے لئے نہیں، کسی تجارت کی غرض سے نہیں آیا۔وہ تجارت جس کا خدا نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اللہ سے کریں اس کا پیغامبر بن کر آیا ہے۔ہمیں کہتا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو لیکن ایسے بھی ہیں جو جب ان کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں تم تو ہر وقت مانگتے ہی رہتے ہو تم سمجھتے ہو دین ہے ہی پیسے دینا۔تم لوگ دنیا پرست ہو گئے ہو روحانیت سے عاری ہو۔ہر وقت پیسہ پیسہ، پیسہ دو، پیسہ دو، ان بیوقوفوں کو کیا پتا کہ اللہ نے اپنے دین کے ساتھ اخلاص کی تعریف میں بلکہ بیعت کی شرط میں یہ داخل کر دیا ہے۔اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبہ: 111) اللہ نے تو جان کے بھی سودے کئے اور ساتھ ہی پیسے پر بھی ہاتھ ڈال دیا کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا۔فرمایا یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں کا اور تمہارے سارے اموال کا سودا کر لیا اور تمہارا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّة اس کے بدلے پھر جنت تم پر فرض ہو گئی۔پس للّہی محبت کرنے والوں سے اگر محبت ہو اور وہ خدا کے حکم کے تابع آپ سے پیسے مانگنے نکلتے ہیں۔اپنی جیب میں ڈالنے کے لئے نہیں، اگر آپ کو توفیق نہیں تو کم سے کم کوئی عفو کا کلمہ ہی کہیں، کوئی نرمی کی معذرت ہی پیش کریں۔قرآن کریم تو یہ فرماتا ہے وَأَمَّا السَّابِلَ فَلَا تَنْهَرُ (الضحی : 11) اور پھر فرماتا ہے کہ اگر اور کچھ نہیں تو عفو کا قول اور نرمی کا قول ہی اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد تکلیف پہنچے یا تکلیف دی جائے تو نرم قول ہی کہہ دیا کرو۔لیکن اگر سچی محبت ہے تو نرم قول کی بات نہیں ، ایسے آنے والے کے لئے دل محبت سے اچھلنا چاہئے۔اس کی عزت دل میں بڑھنی چاہئے۔اس کی قدر ہونی چاہئے۔انسان کو اس کو عزت کے ساتھ گھر میں بیٹھنے کی دعوت دینی چاہئے مگر میں جانتا ہوں اکثر کو موقع نہیں ملتا۔کراچی جیسے شہر میں میں نے ایسے دیوانے ہر وقت پھرتے دیکھے ہیں، لاہور میں دیکھے ہیں، ربوہ میں دیکھے ہیں۔رجسٹر