خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 435 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 435

خطبات طاہر جلد 13 435 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 / جون 1994ء میرے رشتے کی خاطر ان سے تعلق بڑھاؤ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی ذات پر تمہاری محبت فرض کرلوں گا۔اگر کسی مذہب میں اس بات کی ضمانت مل جائے کہ اس کے پیروکاروں پر اللہ کی محبت فرض ہوگئی تو اس سے بڑی اور کیا نعمت ممکن ہے۔جیسا کہ میں نے کہا تھا یہ نصیحت روحانیت کے مضمون کا حرف آخر ہے۔اس سے بلند تر کوئی نصیحت نہیں ہو سکتی تھی اور کتنی سادہ اور کتنی آسان ہے لیکن روز مرہ کی جو علامتیں ہیں ان پر بھی غور ضروری ہے۔ان پر نظر ڈالے بغیر ہم پہچان نہیں سکتے کہ ہماری محبت محض ایک رومانی فرضی محبت تھی یا سچی اور حقیقی تھی۔فرماتا ہے ”میری محبت واجب ہوگئی اور میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں پر میری محبت واجب ہو گئی۔اب جلسے پر بھی جب دوست تشریف لاتے ہیں اس کے علاوہ بھی جب ایک احمدی دیکھتا ہے کہ کسی اور احمدی کو کوئی ضرورت ہے اور وہ اس پر کمر بستہ ہو جاتا ہے کہ کسی طرح اس کی ضرورت کو پورا کرے اور یہ روز مرہ عام طور پر جاری و ساری مضمون ہے تو بحیثیت جماعت وہ یہ گواہی دیتا ہے کہ ہم وہی جماعت ہیں جس کا ذکر اس حدیث نبوی میں ملتا ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی محبت مجھ پر واجب ہو گئی۔پس خدا کی خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنا ،خدا کی خاطر ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنا یہ در حقیقت اللہ کی محبت کی ایک علامت ہے اور اسی لئے للہی محبت کی شرطوں میں اس کو داخل فرمایا گیا ہے۔پھر فرماتا ہے، ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں پر میری محبت واجب ہوگئی اور میری وجہ سے ایک دوسرے سے دوستی کرنے والوں پر میری محبت واجب ہو گئی۔اصل حقیقت یہ ہے کہ جو حقیقت میں آنحضرت ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور خدا سے محبت کرتے ہیں وہ دینی خدمت کرنے والوں سے نفرت کر ہی نہیں سکتے ، یہ ناممکن ہے۔اس لئے جب بھی کہیں جماعتوں سے مجھے یہ اطلاع ملتی ہے کہ دھڑے بندیاں ہو گئی ہیں اور کچھ لوگ ہیں جو امیر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف باتیں کرتے ہیں اور پھرا کٹھ کر کے ایک دوسرے کے ساتھ مشورے کر کے کسی اور کو امیر لانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ وہاں سے ایمان اٹھ چکا ہے اور خدا کی محبت کا کوئی اثر ان لوگوں کے دلوں پر باقی نہیں سبھی بعض دفعہ میں نے بہت سخت خطبے اس مضمون پر دیئے ہیں اور بعض دفعہ مجھے لوگ احتجاج کرتے ہیں، لکھتے ہیں کہ چھوٹی سی بات تھی آپ سمجھا دیتے ، بات کر دیتے۔