خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 421 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 421

خطبات طاہر جلد 13 421 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جون 1994ء دیکھ بھال کرو۔آج کی دنیا میں تعلقات خراب کرنے کی وجوہات میں اہم ترین وجہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مال پر حرص کی نظر ہوتی ہے اور اگر ایک دوسرے کا مال بد دیانتی سے کھایا جا سکتا ہے تو لوگ کھاتے ہیں بلکہ سکیم بنا کر بھی کھاتے ہیں اور اگر نہیں کھاتے تو اس لئے کہ کوئی سامنے ہے اور جہاں وہ پیچھے ہٹا وہاں اس کی غیو بت میں اس کا مال کھانا شروع کر دیا۔قرآن کریم اس کی مثال دیتا ہے کہتا ہے کہ دیکھو ہر قوم میں اچھے اور برے لوگ ہیں بعض یہود ایسے ہیں کہ ان کو ڈھیروں بھی تم دے دو تو وہ دیانتداری سے کام لیتے ہیں یعنی دیانتداری صرف کسی ایک قوم یا ایک مذہب کا خاصہ، اور حصہ نہیں۔ہر خدا کے بندے میں بعض خوبیاں پائی جاتی ہیں اور بعض ایسے بد بخت ہیں کہ جب تک تم سامنے کھڑے رہو اس وقت تک تم سے دیانت کا سلوک کریں گے ذرا تم نے آنکھ جھپکی یا منہ موڑا اور وہ تمہارے لئے بددیانت ہو گئے۔تو آنحضرت ﷺ حاضر کی دیانت سکھانے کے لئے غائب کی دیانت پر زور دے رہے ہیں۔جو شخص عدم موجودگی میں دیانتدار ہے اس سے بڑا دیانتدار کوئی نہیں ہوسکتا ورنہ حاضر میں تو بد دیانت بھی بعض دفعہ دیانت کر جاتے ہیں۔پس یہ بات اپنی ذات میں پیدا کریں، اپنے ماحول میں پیدا کریں، اپنے بچوں کو سکھائیں کہ سامنے کی دیانتداری تو بد خلقوں کو بھی نصیب ہو جایا کرتی ہے کیونکہ سامنے ہونے کا ایک خوف ہے مگر پیٹھ پیچھے دیانتداری ، یہ اصل خلق ہے۔لیکن آنحضور ﷺ نے تو اس خلق کو اور بھی زیادہ بڑھا کر پیش فرمایا ہے۔فرمایا ہے صرف یہ نہیں کہ دیانتداری کرو بلکہ اس کے مال کی حفاظت کرو۔اس کی آنکھیں بن جاؤ، اس کے کان بن جاؤ، اس کے ہاتھ پاؤں ہو جاؤ، جب تمہارا بھائی ایک چیز چھوڑ جاتا ہے تو اس سے قطع نظر کہ اس نے تمہیں حفاظت کے لئے کہا یا نہیں کہا تمہیں فکر لاحق ہو جانی چاہئے کہ میرے بھائی کو نقصان نہ پہنچ جائے۔یہ بہت ہی اعلیٰ درجے کے اخلاق ہیں جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھلائے اور جن کے نتیجے میں تمام مالی بد معاملگیاں سب ختم ہو سکتی ہیں کوئی بھی ان میں باقی نہیں رہ سکتی۔جس شخص کی روح یہ ہو کہ اپنے بھائی کی یعنی ہر دوسرے کی چیز کی اس کی عدم موجودگی میں حفاظت کر رہا ہو۔اس کے لئے ممکن کس طرح ہے کہ وہ ہر وقت دماغ لڑائے کہ کس طرح میں شراکت کی ترکیب کروں کس طرح ہم ایک دوسرے سے مل کر کچھ سودے کریں، جب منافع ہوں تو میں کوشش کروں کہ زیادہ منافع ملے۔میرے ہاتھ آ جائے۔نقصان ہوں تو کوشش ہو کہ بڑا نقصان اس کے پہلے پڑ جائے۔یہ باتیں سوچنے والے کبھی غیب میں کسی کے مال کی