خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 422 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 422

خطبات طاہر جلد 13 422 خطبہ جمعہ فرمود و 3 جون 1994ء حفاظت کر سکتے ہیں؟ اس لئے بہت ضرورت ہے کہ ہمارے جو معاملات ہیں ان کو اتنا صیقل کریں، اتنا مانجھیں، اتنا صاف کریں کہ دنیا میں احمدیوں سے بڑھ کر نیک معاملہ کرنے والی کوئی قوم نہ ہو، آپ کے تعلقات اب دنیا میں پھیل رہے ہیں، بہت بڑی وسعت اختیار کر رہے ہیں، ہر قسم کی قو میں آ رہی ہیں۔ان میں سے کچھ مال دار بھی ہوں گے جو آئیں گے، کچھ ضرورت مند بھی ہوں گے جو آپ کے ساتھ تجارتی معاملات بھی کریں گے اور آپ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے وہاں یہ خلق ہے جوامت واحدہ بنانے میں بہت عظیم کردار ادا کرے گا اور اگر یہ خلق آپ کو نہ نصیب ہوا تو بنے ہوؤں کو توڑنے اور بکھیرنے میں سب سے بڑا گناہ آپ کو ہو گا۔پس آپس کے تعلقات درست کرو۔یہاں تو حال یہ ہے کہ بھائی بھائی کے معاملے میں بھی دیانت دار ثابت نہیں ہوتا۔ماں باپ آنکھیں بند کرتے ہیں تو جائیداد کے جھگڑے شروع ہوتے ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔بارہ بارہ سال ہیں بیس سال تک جھگڑے چلتے ہیں۔ایسی جماعتیں ہیں جن کے ساتھ بالآخر مجھے تنگ آ کر یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ اتنی دیر کے اندر یہ جھگڑے ختم کر دیا مجھ سے تعلق تو ڑ لو بیچ کی کوئی اب راہ نہیں رہی۔بیس بیس سال کے ایسے بگڑے ہوئے تعلقات، جماعتیں پھٹی ہوئیں اور اللہ کا احسان ہے کہ جماعت احمدیہ کو خدا نے یہ بنیادی خلق عطا کیا ہوا ہے کہ خلافت سے وابستہ ہے جب یہ کہا کہ پھر مجھ سے کوئی تعلق نہیں تو پھر لوگوں نے قربانیاں کیں۔وہ جماعتیں درست ہوئیں اب ان میں بڑی برکت پڑ رہی ہے۔بعض ایسی جماعتیں ہیں ہندوستان ہی میں ، جن کا حال یہ تھا کہ سالہا سال سے کسی نئے احمدی کا منہ دیکھنا نصیب نہیں تھا اب ان جماعتوں میں صرف وہیں بہتر کام نہیں ہوا بلکہ سارے ماحول میں انہوں نے کام شروع کیا ہوا ہے اور حیرت انگیز انقلاب برپا ہورہا ہے۔تو جمیعت دوسروں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور وہ تمام اخلاق جو جمیعت کو منتشر کرنے والے ہیں وہ آپ کے تبلیغی کاموں میں نہ صرف روک بنتے ہیں بلکہ آئے ہوؤں کو بھی دوبارہ دھکیل کر باہر پھینک دینے کا موجب بنتے ہیں اور یہ معاملات ان میں ایک بہت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بد معاملگی کے نتیجہ میں خاندان بکھر گئے ، بھائی بھائی کا دشمن ہوا، بھائیوں نے بہنوں کے حق مارنے کی کوشش کی بہنوں نے بھائیوں کے حق مارنے کی کوشش کی اور جہاں خاندان بکھر گئے وہاں جماعت کو جمیعت کیسے نصیب ہو سکتی ہے۔پس آنحضور ﷺ کی باتوں پر غور کریں اور اپنے دل میں