خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 420
خطبات طاہر جلد 13 420 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جون 1994ء ایسا شخص کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔جو خو بیوں پر بھی نظر رکھتا ہے خوبیوں سے پیار کرتا ہے اس کے منہ سے اگر برائیاں بھی معلوم ہوں تو بری نہیں لگتیں تبھی ماؤں کی بات بچے سب سے کم بُری مناتے ہیں کیونکہ ان کو پتا ہے ہر وقت خوبیوں پر نظر ہے ایک برائی بھی دیکھ لی ہے تو بتاتی ہے تو کوئی حرج نہیں وہ تحمل کے ساتھ ، حوصلے کے ساتھ ، ان باتوں کو سنتے ہیں اور نصیحت کرنے والا حضرت محمد مصطفیٰ سے نصیحت کے رنگ سیکھے تو اس کے تعلقات میں رحمت غالب ہوگی اور رحمت کے نتیجے میں وہ شخص جس کو نصیحت کی جاتی ہے اس کی توجہ رحمت کی طرف رہتی ہے اور نصیحت سے برانہیں منا تا۔پس آئینہ وہ بنیں جو حضرت محمد مصطفی ملے تھے اور بسا اوقات آپ جب عمومی نصیحت فرمایا کرتے تھے تو ذکر بھی نہیں کرتے تھے کہ کون ہے لیکن جن کے دل میں کمزوریاں ہوتی تھیں وہ بھانپ لیتے تھے وہ جان لیتے تھے اور اس طرح یہ ضروری نہیں تھا کہ حضور اکرم ﷺ ہر ایک کے پاس جائیں اور ہر ایک شخص کو یہ بتائیں کہ تم کون ہو اور کیا ہو بلکہ آپ کا تعلق تمام بنی نوع انسان سے تھا۔اس لئے اپنے خطبات میں اپنی عمومی نصائح میں آپ ایسی نصائح فرما دیتے تھے کہ ہر دل جس میں کمزوری تھی وہ بھانپ لیتا تھا کہ میرے متعلق بات ہو رہی ہے لیکن یہ بھی جان لیتا تھا کہ مجھ پرستاری کا پردہ ڈالا گیا ہے اور اس طرح پھر وہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔تو فرمایا مومن ایک دوسرے کا آئینہ ہے ( یعنی اپنا آپ اس میں دیکھتا ہے )۔یہ ایک دوسرا مضمون ہے یعنی اپنا آپ اس میں دیکھتا ہے یہ ترجمہ کرنے والے نے اپنی طرف سے لکھ دیا ہے حدیث کے الفاظ نہیں ہیں یہ تو مضمون کو محدود کرنے والی بات ہے۔مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے، بس اتنی بات ہے۔کبھی وہ اس کو دیکھتا ہے اور اس کو بتاتا ہے کہ تم کیا ہو کبھی اس کے حوالے سے اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور اپنی حقیقت معلوم کرتا ہے کہ میں کون ہوں۔اس دوسرے پہلو سے یہ بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ مومن اپنی کمزوریوں کی تلاش میں رہتا ہے اور سب سے بہتر اس کی کمزوریاں بتانے والا اس کا بھائی ہے اور نہ صرف یہ کہ وہ انتظار کرے کہ کوئی مجھے بتائے وہ خود علیحدگی میں پوچھتا ہے کہ بتاؤ مجھ سے کوئی ایسی بات تو نہیں ہوگئی مجھ میں کوئی ایسی عادت تو نہیں جو بری لگی ہو یا کوئی بات مجھ سے ہوئی ہو جو تمہیں پسند نہ آئی ہو۔اس بات کی تلاش میں رہتا ہے اور آنحضرت ﷺ ہمیشہ اس بات کی جستجو میں رہتے تھے کہ آپ کی ذات سے کسی کو ادنی سی بھی تکلیف نہ پہنچے۔پھر فرمایا۔اپنے بھائی کا مال و متاع ضائع کرنے سے بچو اور اس کی غیر حاضری میں اس کے مال کی