خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 419
خطبات طاہر جلد 13 419 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جون 1994ء مروی ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے یعنی اپنا آپ اس میں دیکھتا ہے اور ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے اپنے بھائی کا مال و متاع ضائع کرنے سے بچو اور اس کی غیر حاضری میں اس کے مال کی دیکھ بھال کرو۔( ابوداؤد کتاب الادب باب في النصيحةحديث :4272) اب اس میں دو تین باتیں اکٹھی اوپر تلے بیان فرمائی گئی ہیں ایک یہ کہ مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے آئینہ کے متعلق میں بڑی تفصیل سے پہلے روشنی ڈال چکا ہوں کہ آئینہ برائیاں بھی دکھاتا ہے اور خوبیاں بھی دکھاتا ہے۔اچھا آئینہ وہ ہے جو برائیاں دکھاتے وقت بھی جھوٹ نہ بولے اور غصے والا آئینہ نہ ہو کہ برائیوں کو بڑھا کے دکھائے۔بعض آئینے لاشعوری ہونے کے باوجود غصے والے ہوتے ہیں ان کے اندر ایسی خرابی ہوتی ہے کہ ناک بھی موٹا دکھائی دے گا، آنکھ پھیلی ہوئی اور سارے اعضاء بگڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔تو مومن جو مومن کا آئینہ ہے اس سے مراد ہے شفاف آئینہ۔جس چیز کو جیسے دیکھتا ہے ویسے بیان کرتا ہے۔جن کو کسی سے نفرت ہو وہ بدیاں بیان کرتے رہتے ہیں نیکیوں کی طرف خیال ہی نہیں کرتے جن کو کسی سے محبت ہونیکیاں ہی بیان کرتے رہتے ہیں اور بدیوں کی طرف دھیان ہی نہیں دیتے آئینہ جو صاف شفاف ہوسچا ہوتا ہے جہاں بدیاں بیان کرتا ہے وہاں خوبیاں بھی دکھاتا ہے تبھی آپ کو آئینوں سے نفرت نہیں ہوتی بلکہ آئینہ جھوٹا ہو تو اس کو پسند نہیں کرتے۔آئینہ سچا ہو تو آپ کے ہر ستم کو دکھاتا ہے تا کہ آپ اسے دور کر سکیں اور اونچی آواز سے نہیں دکھاتا بلکہ راز رکھتے ہوئے دکھاتا ہے یہاں تک کہ وہی آئینہ جب کوئی دوسرا اٹھا کر دیکھتا ہے اسے اپنی تصویر دکھائی دیتی ہے، اپنے اس بھائی کی نہیں دکھائی دیتی جو پہلے اس آئینے سے فائدہ اٹھا چکا ہے۔کتنا وسیع مضمون ہے، کتنا گہرا اور لطیف مضمون ہے۔اگر اس پر بھی آپ غور کرنا شروع کریں تو گھنٹوں غور کریں آپ کو نئے سے نئے لطیف مطالب ہاتھ آتے چلے جائیں گے خلاصہ آپ کو میں پھر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو آئینے کی طرح دیکھیں اس طرح کہ جب آپ ان کو کسی کمزوری کی طرف متوجہ کریں تو مخفی طور پر اس رنگ میں کریں کہ وہ غصہ نہ کھائے بلکہ آپ کا ممنون احسان ہو اور پھر اس کو بھول جائیں کہ جب کوئی اور مومن آپ کے سامنے آئے تو اس کی کمزوریاں آپ کو یاد ہی نہ ہوں کہ کوئی ایسی بھی کمزوریاں تھیں، آگے بات نہ چلے۔پھر آپ ان کی خوبیوں کی بھی تعریف کیا کریں۔وہ شخص جو صرف کمزوریاں بتاتا ہے وہ لازماً تکلیف پہنچاتا ہے اور