خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 398 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 398

خطبات طاہر جلد 13 398 خطبه جمعه فرموده 27 رمئی 1994 ء تم تین ہو تو تم میں سے دوا لگ سرگوشی نہ کریں جب تک کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ نہ مل جاؤ کیونکہ اس طرح تیسرے آدمی کو رنج ہو سکتا ہے۔(مسلم کتاب السلام باب تحریم مناجاة )۔مراد یہ ہے کہ پتا نہیں وہ کیا بات کر گئے ہیں۔اب یہ جو خلق ہے اس کا خاص طور پر ایسے ملکوں سے گہرا تعلق ہو جاتا ہے جہاں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔مختلف قومیں آباد ہیں، اپنی اپنی زبانیں لے کر آ گئیں۔اب یہ تو ہر ایک کے لئے ممکن نہیں کہ ہر ایک دوسری زبان کو سیکھے اور اپنی بات کے ایسی زبانوں میں ترجمے کرتا چلا جائے کہ مجلس میں بیٹھا ہوا ہر شخص اس کو سمجھ سکے۔یہ مراد نہیں ہے اول مراد یہ ہے کہ اگر ایسی مجلس میں ہو جہاں ایک ہی زبان بولی اور مجھی جاتی ہے تو کانوں میں سرگوشی نہ کرو اور دوسروں کی موجودگی میں ان سے الگ چھپ کر گویا راز کی بات نہ کرو۔دوسری بات اس میں یہ ہے کہ اگر ایسی زبان بولنے والے ہیں جو تم بول سکتے ہو اگر چہ تمہاری زبان نہیں اور ایسا شخص بھی موجود ہو جو تمہاری زبان جانتا ہے تو جب آپ ایسے شخص سے اپنی زبان میں بات کریں گے تو عملاً یہ سرگوشی کے قائم مقام ہو جائے گی اور وہ شخص جو آپ کی زبان نہیں سمجھتا تیرا ہے اس کے لئے تکلیف کا موجب بنے گی۔اسی لئے اکثر اوقات میں احمد یوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جس ملک میں ہو اس کی زبان کو اتنی اہمیت دو کہ اگر تم سو بیٹھے ہو اور ایک بھی اس زبان کا بولنے والا ہو جو تمہاری زبان نہیں سمجھتا، تو اس حدیث کی نصیحت کا وہاں بھی اطلاق ہو گا۔آپس میں جب تم باتیں کرو گے وہ ایک شخص یہ سمجھے گا کہ مجھے اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے گویا میں اس مجلس کا حصہ نہیں ہوں اور اس کا اس کے اوپر بہت اثر پڑ سکتا ہے یہاں تک کہ بعض لوگ اسی وجہ سے پھر مذہب سے بدظن ہو کر دور ہٹ جاتے ہیں۔چنانچہ انگلستان ہی میں مجھے پتا چلا کہ دو خوا تیں تھیں جو کسی زمانے میں بہت ہی مخلص احمدی تھیں اور اس کے بعد ان کا رابطہ کٹ گیا۔جب میں انگلستان آیا تو مجھے کسی نے بتایا کو وہ دو خواتین تھیں وہ ابھی تک زندہ ہیں اور ان کا رابطہ اس وجہ سے کٹا کہ وہ مجلسوں میں آتی تھیں تو پاکستانی خواتین آپس میں اردو میں یا پنجابی میں باتیں کرتی رہتی تھیں اور وہ جن کا ملک ہے وہ اپنے ہی ملک میں اجنبی بن بیٹھی رہتی تھیں۔یہاں تک کہ وہ جماعت سے بدظن ہو گئیں اور باوجود اس کے کہ پہلے ابتداء میں وہ بڑی قربانی کرنے والی تھیں، چندے بھی بہت دیا کرتی تھیں وہ قطع تعلق کر کے ایک طرف بیٹھ رہیں۔جب مجھے پتا چلا تو ان کی طرف میں نے معذرت کا پیغام بھجوایا۔ان کی دل جوائی کی باتیں کیں اور ان سے کہا کہ مذہب تو اپنی جگہ ہے کسی کی بداخلاقی