خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 397 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 397

خطبات طاہر جلد 13 397 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء کرنی ہیں۔محمد مصطفی ﷺ کا حسن ہے جس نے در حقیقت اس کا ئنات کے بدصورت چہروں کو لا زوال حسن میں تبدیل کر دینا ہے۔آنحضور ﷺ سے حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا میری سنت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میزبان اعزاز و تکریم کے ارادے سے مہمان کے ساتھ گھر کے دروازے تک الوداع کہنے آئے۔(سنن ابن ماجہ ابواب الاطعمہ باب الضیافتہ )۔اب آنحضرت ﷺ کا ایک غلام اس نیت سے اس عادت کو اپنا تا ہے تو اس کو پتا بھی نہیں کہ اس چھوٹی سی بات کا بعض دفعہ دوسروں پر کتنا گہرا اثر پڑتا ہے۔مختلف مہمان تشریف لاتے ہیں (یعنی باہر سے ملنے کے لئے مختلف ملکوں سے ) تو جہاں تک توفیق ہے میں آنحضرت ﷺ کی اس نصیحت پر عمل کرتا ہوں اگر بعض دوسرے مہمانوں کی مجبوریوں سے، کیونکہ ان کے آپس میں بھی حق ہوتے ہیں، میں باہر تک نہ جاسکوں تو کم سے کم دفتر کے دروازے تک آ کر ان کو رخصت کرتا ہوں اور مجھے یاد ہے ایک پاکستان کے بہت معزز خاندان کے دوست تشریف لائے ان کا نام ظاہر کرنا مناسب نہیں تو کوئی تکلف نہیں تھا، کوئی یہ خیال نہیں تھا کہ خاص طور پر ان کو مرعوب کروں گا۔جیسے عادت تھی ان کو باہر تک کار کے دروازے تک چھوڑنے گیا۔تو وہاں سے پتا چلا ایک احمدی نے لکھا کہ وہ جگہ جگہ ہر مجلس میں یہی تذکرے کر رہے ہیں کہ حیرت انگیز اخلاق ہیں اور میں اپنی جگہ شرمندہ بھی ہوا اور میں نے سوچا کہ اتنی معمولی سی بات ، جو میر اخلق ہے ہی نہیں، یہ تو میرے آقا و مولی محمد رسول اللہ کا خلق تھا میں نے تو عاریتا مانگا ہوا تھا اور میری نیکی کا اس میں کوئی بھی دخل نہیں۔یہ وہ خلق ہے جو ایک خلق ایک موقع پر ، ایک چھوٹے سے اظہار میں دلوں کو جیت لینے والا ثابت ہوا ہے۔روز مرہ کی زندگی میں آپ اس خلق کو اپنا ئیں تو دیکھیں کتنے دل جیتے جائیں گے لیکن خلق ایک نہیں بلکہ ہزار ہا خلق ہیں۔زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے خلق ہیں جو حمد مصطفی علیہ کے فیض عام نے ہم تک پہنچائے اور ایک سمندر فیوض کا جاری فرما دیا ہے۔ان اخلاق کو اپنی زندگیوں میں اپنالیں پھر دیکھیں آپ کے اندر کتنی عظیم انقلابی طاقتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے آپ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جب