خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 396
خطبات طاہر جلد 13 396 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء طرف ایسی دبیز چیزیں ہیں جو Shock proof ہیں۔صدمہ کو ختم کرنے والے اخلاق ہیں۔پس اگر ایک سے ٹھوکر لگنے کا خطرہ بھی ہو تو دوسرا اپنے اوپر اس کو اس نرمی سے لے لیتا ہے کہ اس صلى الله سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔پس وہ جو دستور تھا ابن عمر کا، وہ ان کا اپنا ایک انداز تھا۔رسول اللہ کو کی نصیحت سنی کہ دل میں اس زور سے گڑ گئی ہے کہ آپ وہم بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اشارہ یا کنایہ بھی میں اس مضمون کے کسی پہلو پر عمل پیرا نہ ہو سکوں۔پس اس بات کو مبالغہ کی حد تک قبول کیا اور جب کوئی آپ کے لئے جگہ خالی کرتا تھا آپ وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیتے تھے۔یہی واقعہ محمد رسول اللہ ہے سے بھی ہوا آنے والے نے آپ کے ادب میں انکار کیا حضور نے فرمایا۔نہیں ہر مسلمان کو چاہئے کہ آنے والے کے لئے کچھ جگہ بنائے کچھ سمٹے۔یہاں ملاقاتیں جب ہوتی ہیں تو بعض دفعہ میں نے دیکھا ہے کرسیاں کم ہوتی ہیں آنے والے زیادہ ہوتے ہیں اور بعض دفعہ بچے بھی کرسیوں پر ڈٹے بیٹھے رہتے ہیں۔ان کے بڑے کھڑے ہیں اور ان کو پرواہ نہیں ہوتی اور اس عمر میں اگر یہ نصیحت ان کو دل نشین نہ کرائی گئی تو بڑے ہو کر وہ بد اخلاق لوگ بنیں گے۔یہ درست ہے کہ ماں باپ خود بچوں کو یہ کہہ کر اٹھو اٹھو میرے لئے جگہ خالی کرو۔ان کی عزت نفس کو کچلنا نہیں چاہئے مگر جب دوسرے آتے ہیں تو اس وقت نصیحت کر کے ان کو سمجھانا چاہئے کہ اپنے لئے جگہ نہ مانگیں، دوسروں کو جگہ دینے کے لئے آمادہ تو کریں یہاں تک کہ یہ ان کی فطرت ثانیہ بن جائے اور ہمارے سب بچوں کو یہ بنیادی محمد رسول اللہ ﷺ کا خلق ایسا یا د ہو جائے کہ ان کی رگ و پے میں سرایت کر جائے ، ان کی فطرت ثانیہ بن جائے۔ہر شخص آنے والا بھی محمد رسول اللہ اللہ کے خلق کا مظاہرہ کر رہا ہو اور بیٹھے والا بھی محمد رسول اللہ ﷺ کے خلق کا مظاہرہ کر رہا ہو۔امر واقعہ یہ ہے کہ حدیث پر عمل کرتے ہوئے اور آپ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آپ کے ذہن میں جو نقشہ ابھرنا چاہیئے وہ یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو چکے ہیں مگر آپ کی سیرت ہم سے کبھی جدا نہ ہو اور اس کائنات کے ہر جو کو آپ کی سیرت بھر دے، ہر اندھیرے کو آپ کی سیرت کا نور روشنی میں تبدیل کر دے اور یہی ایک ذریعہ ہے جس سے زمانہ کی تاریکیاں اجالوں میں تبدیل کی جائیں گی۔اس کے بغیر اور کوئی رستہ نہیں ہے۔اس لئے چھوٹی چھوٹی نصیحتوں کو معمولی نہ سمجھیں۔انہی سے آپ نے کائنات میں رنگ بھرنے ہیں ، خوشبوئیں عطا