خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 389 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 389

خطبات طاہر جلد 13 389 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994ء نوازا ہے، جو دوبارہ ایک ہاتھ پر جمع ہو چکی ہے، ایک ہی ہاتھ پر اٹھتی ہے ایک ہی ہاتھ پر بیٹھ جاتی ہے، ایک ہی اشارے پر حرکت میں آتی ہے اور ایک ہی آواز پر لبیک کہتی ہے۔اگر چہ جواب دینے والوں کی زبانیں مختلف ہیں، ہو سکتا ہے وہ سینکڑوں زبانیں بول رہے ہوں۔لیکن دل کی آواز وہی ہے کہ لبیک اللھم لبیک۔اے ہمارے اللہ تیرے نام پر جو آواز بلند ہوئی ہے ہم اس کے جواب میں لبیک کہتے ہیں اور لبیک کہتے چلے جائیں گے۔پس یہ وہ مضمون ہے، امت واحدہ بنانے والا ، جس کو قرآن کریم کی اس آیت کے حوالے سے میں آپ کو دوبارہ یاد دلاتا ہوں اور یہ بتاتا ہوں کہ قرآن کریم نے جو مثال دی ہے وہ ایک طرف اللہ کی نعمت کو ہم پر خوب کھول کر بیان کرنے والی ہے۔دوسری طرف ہر قسم کے پیش آمدہ خطرات کو دکھانے والی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا حال یہ تھا کہ یعنی محمد مصطفی ﷺ کی نعمت پر اکٹھے ہو جانے والو! تمہارا حال یہ تھا کہ تم آپس میں بٹے ہوئے تھے ، ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے، دل بھی پھٹے ہوئے تھے، قبائل بھی جدا جدا تھے۔یہاں تک کہ قریب تھا کہ تم اس آگ میں جا پڑ وجس کے کنارے تک تم پہنچ چکے تھے۔باہمی نفرتیں، باہمی اختلافات، باہمی دشمنیاں، ان کی مثال قرآن کریم نے ایک ایسے آگ کے گڑھے سے دی ہے جس کے کنارے پر آپ کھڑے ہوں اور بعید نہ ہو کہ وہ کنارہ منہدم ہو اور اپنے اوپر کھڑے ہونے والوں سمیت جہنم میں جا پڑے۔فرمایا خدا نے اپنی نعمت سے تمہیں اس سے بچالیا تمہارے دلوں کو باندھ دیا اور ایک کر دیا اسے یادرکھنا۔ایسانہ ہو کہ دوبارہ تم پھر وہی حرکت کرو اور جس خوفناک انجام سے تم بچائے گئے ہو دوبارہ آنکھیں کھولتے ہوئے اس انجام کی طرف آگے بڑھو۔یہ وہ تنبیہ ہے جو اس مبارک باد کے ساتھ شامل ہے اور ہمیں چونکہ ابھی بہت لمبا سفر کرنا ہے۔بہت عرصہ لگے گا، ایک صدی کی بھی بات نہیں۔ہوسکتا ہے پوری دو مزید صدیاں اس کام کے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں لگ جائیں۔اس لئے اس ایک بات کو مضبوطی سے پکڑ لیں کہ قرآن پر ہاتھ ڈالنا ہے اور اس طاقت کے ساتھ ڈالنا ہے کہ کبھی وہ ہاتھ پھر قرآن سے جدا نہ ہو اور قرآن پر ہاتھ ڈالنا ہے محمد مصطفی کا دامن پکڑ کر اور آپ کے قدموں کو چھو کر اور آپ سے وابستہ ہو کر اور اس عزم صمیم کے ساتھ کہ سرا الگ ہو جائیں مگر محمد مصطفیٰ کے قدموں سے الگ نہیں ہوں گے۔ہاتھ کاٹے جائیں مگر محمد مصطفیٰ کا دامن نہیں چھوڑیں گے۔یہ ہے وہ حبل اللہ کو پکڑ لینا جس کے