خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 390
خطبات طاہر جلد 13 390 خطبہ جمعہ فرمودہ 27 رمئی 1994 ء نتیجے میں یہ اجتماعیت کا فیض جو آج بھی آپ دیکھ رہے ہیں، پہلے بھی دیکھتے رہے ہیں، کل بھی اور پرسوں بھی اور میں امید رکھتا ہوں کہ صدیوں تک دیکھتے چلے جائیں گے۔یہ فیض آپ کے ساتھ دائمی برکت کے طور پر رہے گا۔یہ قدرت ثانیہ بن کر آپ کا ساتھ دے گا اور آپ کو نہیں چھوڑے گا مگر ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ آپ حبل اللہ کو نہ چھوڑنا۔حبل اللہ سے چمٹے رہیں اور ہر قربانی پیش کر دیں مگر حبل اللہ سے الگ ہونے کا تصور بھی نہ کریں۔آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو حبل اللہ کے ساتھ چمٹے رہنے کی جہاں نصیحت فرمائی وہاں اس کا ایک ایسا حل پیش کیا جو بظاہر چھوٹی چھوٹی معمولی سی نصیحتوں پر مشتمل دکھائی دیتا ہے۔مگر وہی حل ہے جس میں حبل اللہ کے ساتھ چھٹے رہنے کی روح موجود ہے۔اس کے بغیر آپ اس نعمت کی حفاظت نہیں کر سکتے۔اور وہ حل حضور اکرم یا اللہ نے یہ پیش فرمایا کہ اخلاق حسنہ پر قائم ہو جاؤ۔اب بظاہر حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامنے کا اخلاق حسنہ سے کوئی ایسا تعلق تو دکھائی نہیں دیتا کہ گویا ایک ہی چیز کے دو نام ہوں۔مگر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے پاک نمونے اور آپ کی پاک نصائح پر جب آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اخلاق حسنہ یعنی وہ اخلاق محمدی ہے جن کی بنیادیں عشق الہی میں گڑی ہوئی ہیں ان کے اخلاق کے بغیر کوئی دنیا کی جماعت ایک ہاتھ پر اکٹھی نہیں رہ سکتی ، ان اخلاق حسنہ کے بغیر کوئی دل آپس میں ملے نہیں رہ سکتے۔ان اخلاق حسنہ کے بغیر کوئی ملت ، ملت واحدہ نہیں کہلا سکتی کیونکہ اخلاق حسنہ سے دوری ہی دراصل دلوں کو پھاڑنے کا دوسرا نام ہے اور یہ بنیادی روح ہے جس کو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ہمیشہ پیش نظر رکھا اور اسی طریق کے مطابق جماعت صحابہ کی تربیت فرمائی۔پس وہی مضمون ہے جو میں گزشتہ چند خطبات سے آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور اس مضمون کو آج کی دنیا میں غیر معمولی اہمیت ہے جب تک جماعت احمد یہ اخلاق حسنہ کے ذریعے خود باہم محبت کے رشتوں میں مضبوطی کے ساتھ باندھی نہیں جاتی تمام دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کرنے کا خیال ہی محض ایک خواب ہے ، ایک دیوانے کی بات ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔پس ان باتوں کو غور سے سنیں اور سمجھیں اور مضبوطی سے ان باتوں کو پکڑلیں کیونکہ یہ حبل اللہ تک پہنچانے والی باتیں ہیں۔یہی وہ باتیں ہیں جن کو مضبوطی سے دل میں بٹھا کر آپ حبل اللہ کا فیض پائیں گے اور آپ کے دل اکٹھے ہوں گے اور باہم مضبوط رشتوں میں باندھے جائیں گے۔