خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 31

خطبات طاہر جلد 13 31 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 جنوری 1994ء کہ اے دلوں کو پھیر نے والے میری دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔حضرت ام سلمہ نے تعجب سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ یہ دعا کرتے ہیں جن کا دل سب سے زیادہ اللہ کے دین پر ثبات حاصل کر چکا ہے! آنحضرت ﷺ کی انکساری کا یہ معراج ہے کہ آپ جواب میں فرماتے ہیں کہ میں اس لئے کرتا ہوں کہ دل تو اللہ کی انگلیوں میں اس طرح ہیں کہ جب چاہے جدھر چاہے بدل دے۔( ترندی کتاب القدر: 2066 ) وہ مالک ہے اگر خدا یہ فیصلہ نہ کرے کہ مجھے ثبات عطا کرے گا تو مجھے کیسے ثبات ہو سکتا ہے۔پس وہ لوگ جو ذکر کرتے ہیں بعض دفعہ اس ذکر کے نتیجے میں متکبر ہو جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں ہم خدا والے ہو گئے ہیں اور باقی دنیا کو یعنی سب کو حقیر اپنے سے نیچے دیکھ رہے ہوتے ہیں یہ بہت بڑی جہالت ہے۔ذکر نے سب سے زیادہ رفعت حضرت محمد مصطفی ﷺ کو بخشی تھی کیونکہ آپ کا ذکر سب سے زیادہ رفیع الشان تھا اور سب سے زیادہ گرنے کے خوف میں آپ ہی مبتلا تھے یہ خوف کسی حقیقی خطرے کے نتیجے میں نہیں تھا کیونکہ آپ خدا کی طرف سے امن یافتہ تھے اس لئے اس خوف کا محرک ایک مختلف محرک ہے۔یہ بہت ہی لطیف ہے اور بہت ہی حسین ہے۔تمام تر ضمانتوں کے باوجود جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بار ہا عطا فرمائیں یہ احساس کہ میری ذات میں کچھ بھی نہیں جو وہ مجھے ان ضمانتوں کا حق دار قرار دے۔محض اللہ کا فضل ہے، محض اس کی طرف سے ثبات نصیب ہوتا ہے جب وہ چاہے چھوڑ دے، میرا کیا شکوہ ہو سکتا ہے، سب کچھ اسی کی عطا ہے۔یہ انتہائی لطیف احساس جو محبت کے آخری نقطے سے آغا ز پاتا ہے اور اسی کی طرف لوٹتا ہے یہ وہ احساس ہے جس کا اس حدیث میں ذکر ملتا ہے کہ میں کیوں نہ کروں۔میں کیوں اپنے رب سے ثبات نہ مانگوں اسی کی عطا ہے جو کچھ نصیب ہوا ہے اور جب چاہے بدل دے مجھے کوئی شکوہ نہیں ہوسکتا، میرا کوئی حق نہیں۔پس اگر ذکر الہی کرنا ہے اور اس سے کچھ مناصب حاصل کرنے ہیں تو حضرت محمد مصطفی ﷺ سے ان باتوں کا سلیقہ سیکھیں۔ذکر کے نتیجے میں انانیت اونچی نہیں ہونی چاہئے۔ذکر کے نتیجے میں سر اور بھی خدا کے حضور جھکنا چاہئے اور جتنی بلندی حاصل کریں اتنا ہی گرنے کا خوف آپ کو دامن گیر رہے اور اللہ کے ہاتھ سے اور زیادہ شدت کے ساتھ اور قوت کے ساتھ چھٹے رہیں۔یہی وہ اسلوب تھا جو حضرت محمد مصطفی امیہ نے اختیار فرمایا اور جس کی ہمیں نصیحت کی۔اب وہ لوگ جو ذکر سے اجتناب کرتے ہیں اور شیطان کے ساتھی بن جاتے ہیں، ان کا