خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 32 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 32

خطبات طاہر جلد 13 32 32 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 جنوری 1994ء اٹھنا بیٹھنا سب ہمارے علم میں ہماری نظر میں ہے۔بارہا ہم ان تجربوں سے گزرے ہیں۔اب آنحضرت ﷺ کے ذکر پر میں اس مضمون کو ختم کروں گا آپ کی کیفیت یہ تھی کہ جب حاجات بشری کے تقاضے پورے کرنے کے لئے جاتے تھے تو اس وقت بھی ذکر کرتے تھے اور یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے میرے اللہ مجھے ناپاکی سے اور ناپاکوں سے بچانا۔میں ناپاکی سے اور نا پاکوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔پھر جب فراغت کے بعد وضو کرتے تھے تو پھر بھی ذکر الہی سے وضو کا آغاز ہوتا تھا۔عرض کرتے تھے اللهم اجعلنى من التوابين واجعلني من المتطهرين ( ترندی کتاب الطہرۃ حدیث : 50 ) کہ اے میرے اللہ ! مجھے تو بہ کرنے والوں میں سے بنانا اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں میں سے بنانا۔جو وضو ہے یہ تو بہ اور پاکیزگی دونوں کا مظہر ہے اور اس دعا میں وضو کا فلسفہ بیان ہو گیا۔پھر انسان صبح اٹھتا ہے، فارغ ہوتا ہے، وضو کرتا ہے، مسجد کی طرف جاتا ہے تو جو صبح مسجد کی طرف جانے کی دعا تھی اس کا مضمون اور تھا اور روزمرہ عام مختلف وقتوں میں جانے کی دعا تھی اس کا ایک اور مضمون ہے۔اس مضمون کا صبح سے تعلق ہے چنانچہ آپ مسجد کی طرف جاتے ہوئے یہ دعا کیا کرتے تھے۔اللهم اجعل في قلبي نورا واجعل في لساني نورا و اجعل في سمعی نورا و اجعل في بصری نورا (ابوداؤد کتاب الصلوة ) کہ اے میرے اللہ میرے دل کو نور سے بھر دے میری زبان کو نور عطا کر، میرے کانوں کو نور بخش اور میری نظروں کو ، میری آنکھوں کو نور عطا کر۔واجعل من خلفى نورا و اجعل من امامی نورا و اجعل من فوقی نورا واجعل من تحتى نورا۔اللهم اعطنى نورا۔کہ اے میرے اللہ میرے آگے بھی نور کر دے میرے پیچھے بھی نور کر دے میرے اوپر بھی نور کر دے۔میرے نیچے بھی نور کر دے۔تو مجھے مجسم نور بنادے۔مجھے نور عطا کر۔(مسلم کتاب الصلوۃ) رات کے اندھیروں سے صبح روشنی میں داخل ہوتے وقت کیسی پیاری دعا ہے لیکن مسجد جاتے وقت یہ دعا کرنا بتاتا ہے کہ مومن کا دل مسجد میں ہے۔مسجد سے باہر اندھیرے ہیں۔پس جو اپنا نور سجدہ گاہوں میں ڈھونڈے، جس کو روشنی وہاں دکھائی دے، وہی دل اور وہی دماغ ہے جو اس دعا