خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 30
خطبات طاہر جلد 13 30 خطبہ جمعہ فرمودہ 14 جنوری 1994ء انسان کو نصیب ہوتی ہے اور وہ شخص جو خدا کے ذکر کے بغیر اپنی زندگی گزار دیتا ہے بظاہر زندہ ہے مگر حقیقت میں مردہ ہے کیونکہ اصل زندگی خدا کی خاطر دی گئی تھی تا کہ اس زندگی سے خدا نصیب ہو اور خدا نصیب ہوتو ایک نئی زندگی عطا ہو۔اسی لئے جب آنحضرت ﷺ ان لوگوں کو بلاتے ہیں جو آپ پر ایمان لائے تو اللہ فرماتا ہے کہ اس لئے ان کو بلاتا کہ انہیں زندہ کر۔اب ایمان لے آئے ہیں تو زندہ کیوں نہیں ہیں ایمان لانے کے بعد زندگی حاصل کرنے کا ایک دور شروع ہوتا ہے جیسے ماں کے پیٹ میں بچہ آغاز میں جنم لیتا ہے، زندہ تو ہو جاتا ہے لیکن محض زندگی کا آغاز ہے اور اس کے بعد پھر سارے مراحل اس زندگی کی تکمیل کے مراحل ہیں اور حقیقی زندگی پھر اس وقت نصیب ہوتی ہے جب وہ اپنے آزاد وجود کے ساتھ ، خود مختار وجود کے ساتھ ماں کے پیٹ سے باہر آ جاتا ہے۔تو یہی مضمون خلق آخر کا ہے اور تبھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے متعلق فرمایا گیا کہ اے مومنو! جب یہ رسول تمہیں اپنی طرف بلائے تو جواب دیا کرو۔لِمَا يُحْيِيكُم (الانفال: 25) تاکہ تمہیں زندہ کرے۔پس زندگی وہی ہے جو ذکر الہی کی زندگی ہے اور جو اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہنے کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا۔آپ فرماتے تھے کہ دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے ذکر الہی کے اور اس چیز کے جو ذکر سے متعلق ہے جس کا تعلق ذکر سے ہے مثلاً عالم جو ذکر الہی کرنے والا ہو اور طالب علم جو عالم سے ذکر الہی سیکھتا ہو وہ ملعون نہیں ہیں۔یہاں ملعون کا جو لغوی معنی ہے وہ پیش نظر ہے۔لعنت دوری کو کہتے ہیں۔پس جو شخص خدا کے قریب آنا چاہتا ہے وہ ذکر سے قریب آ سکتا ہے ورنہ وہ دوری کی حالت میں پڑا ہوا ہے وہ تمام دنیا جو ذکر سے خالی دنیا ہے وہ اللہ سے دور ہے اور ان معنوں میں ملعون ہے۔ہاں وہ جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں وہ جو سکھاتے ہیں اور سیکھتے ہیں ان کے متعلق فرمایا کہ یہ استثناء ہیں۔(ترمذی کتاب الذھد حدیث نمبر : 2243) شھر بن حوشب سے روایت ہے کہ ام سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا آپ کون سی دعا ہے جو بار بار کرتے ہیں جو کثرت سے دعا کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا اے دلوں کو پھیر نے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثبات عطا فرما۔یہ دعا میں بہت کثرت سے کرتا ہوں