خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 339

خطبات طاہر جلد 13 339 خطبہ جمعہ فرموده 6 مئی 1994ء سمجھانی چاہتا ہوں کہ بسا اوقات مغرب میں جب تحقیر سے کسی کو دیکھا جاتا ہے تو ان کے متعلق جھوٹی باتیں کم بناتے ہیں جیسے ہمارے ملکوں میں عادت ہے، کوئی حقیقی نقص پکڑتے ہیں اور اس نقص کی نشاندھی کر کے پھر اس کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا عَسَى اَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمُ اس میں کم سے کم ہمارے لئے یہ نصیحت ضرور ہونی چاہئے کہ ہمیں ان برائیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو ہم میں موجود ہیں اور خصوصیت سے پاکستانی معاشرے میں احمدیت کے نقطہ نگاہ سے نہیں بلکہ ملکی نقطہ نگاہ سے کچھ ایسی خرابیاں ہیں جس کی جڑیں ملک ہندوستان میں پیوستہ ہیں یعنی وہ برصغیر جسے ہندوستان کہا جاتا تھا اس کی ملکی بیماریاں ہیں جو مختلف قوموں میں کم و بیش یکساں پائی جاتی ہیں۔اس پہلو سے اگر پاکستانیوں نے اپنی برائیوں کو دور کر کے اس خوشخبری کو پورا نہ کیا جو قرآن کریم نے دی ہے کہ عَلى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ تو پھر دوسروں کے ہاتھ میں ریس ازم کے لئے ایک جائز تلوارضرور پکڑی رہے گی اور وہ ان برائیوں کا بہانہ بنا کر آپ کے خلاف نفرت کی تعلیم دیتے رہیں گے۔پس جرمن قوم میں رہنے والے پاکستانیوں کے لئے از بس ضروری ہے کہ وہ اپنی برائیوں کی نشاندھی کریں اور ان کے دور کرنے کی کوشش کریں اس ضمن میں مجلس شوری کو با قاعدہ کھل کر پروگرام بنانا چاہئے کیونکہ وہ برائیاں معروف ہیں ہر کس و ناکس کو علم ہے کہ کیا کیا برائیاں ہیں اس ضمن میں میں نے ایک اصلاحی کمیٹی قائم کی تھی اور ملکی سطح پر تمام ملکوں کو یہ ہدایت کی تھی کہ آپ اصلاحی کمیٹیاں قائم کریں اور بعض برائیوں کی نشاندھی کر کے پیشتر اس کے کہ وہ ناسور بن جائیں ان کی اصلاح کی کوشش کریں اور اپنے اخلاقی مریضوں کو شفا دینے کی کوشش کریں۔بعض ملکوں نے اس نصیحت کو یادرکھا اور ان کی ماہانہ رپورٹوں میں نہیں تو وقتا فوقتا سال میں ایسی رپورٹیں ملتی رہتی ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ ان باتوں پر نظر رکھ رہے ہیں۔لیکن بعض ملک ان باتوں کو بھلا بیٹھے ہیں۔جرمنی میں جو اصلاحی کمیٹی ہے وہ کام کر رہی ہے اگر چہ اتنی فعال نہیں جتنی میں دیکھنا چاہتا تھا مجلس شوری میں اس بات پر بھی غور کریں۔اتنا وقت تو آپ کے پاس نہیں ہو گا کہ تمام برائیوں کا تجزیہ کر کے ان نقائص کو دور کرنے کے لئے منصوبہ بنا ئیں مگر اپنی اصلاحی کمیٹی کے کام پر نظر رکھتے ہوئے اسے مضبوط اور فعال بنانے کے لئے ضرور آپ کچھ تد بیر میں سوچ سکتے ہیں۔