خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 338
خطبات طاہر جلد 13 338 خطبہ جمعہ فرموده 6 مئی 1994ء کٹ گئے ہیں یا مدھم اور کمزور پڑ چکے ہیں۔آپ غیر ہو کر جب کسی سے پیار اور محبت کا سلوک کرتے ہیں، اپناتے ہیں تو وہی اس کے لئے مواخات ہے۔بعض جگہ بعض احمدی اپنا دائرہ اثر بڑھانے میں اس لئے بہت کامیاب ہیں کہ ان کی عادت ہے کسی سے ملتے ہیں تو کہتے آؤ ایک چائے کی پیالی میرے ساتھ پی لو۔اب وہ شخص ان سے زیادہ اچھا کھانے پینے والا لیکن چائے کی پیالی کو اس لئے قبول نہیں کرتا کہ اس کو چائے کی پیالی کی احتیاج ہے بلکہ اسے تعجب ہوتا ہے کہ ہم تو بعض دفعہ دوست اکٹھے بیٹھ کر جب کسی ریسٹورنٹ میں جاتے ہیں تو اپنی اپنی جیب سے پیسے نکال کر دیتے ہیں اور یہ عجیب سا شخص ہے کہتا ہے کہ میرے ساتھ آ کر چائے پی لو اور پھر بعض دفعہ وہ کہتے ہیں ہم تمہیں پاکستانی کھانا کھلائیں گے تو ایک اور تعجب دل میں پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے پاکستانی کھانا۔چنانچہ وہ عموما قبول کر لیتے ہیں اور ان کے لئے یہی مؤاخات ہے۔جب ایک دفعہ گھر آ جائے تو اہل خانہ کا ان سے حسن سلوک ان کے دل جیت لیتا ہے۔پس تھوڑی قربانی سے مواخات کے بڑے پھل آپ کو مل سکتے ہیں اور اس پہلو سے اپنے دائرہ مواخات کو بڑھانا ناممکن نہیں ہے۔اس کو وسیع کریں اور جتنی آپ کو توفیق ہے اس تو فیق کی حد تک چھوٹی چھوٹی قربانیاں کریں، پیار کا اظہار کریں مگر ایک بات یادرکھیں کہ مصنوعی محبت کبھی دل نہیں جیتا کرتی۔محبت وہی دل جیتی ہے جو دل سے نکلے۔پس بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے وہ چالا کی سے ہر دلعزیز بننے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے آدمی میں نے کئی دیکھتے ہیں پاکستان میں بھی ہوا کرتے تھے ، جگہ جگہ دعوتیں دیتے پھرتے ہیں آؤ، اور مقاصد اور ہوتے ہیں۔بعض دفعہ ایسے دوستوں کو بنا کے پھر لوٹتے بھی ہیں۔ایسے لوگوں کی چالاکیاں انسان ذرا بھی فراست سے دیکھے تو نظر سے چھپ نہیں سکتیں اور تھوڑے ہی دنوں میں ان کا کردار نمایاں ہو کر قوم کے سامنے بجائے عزت کے ایک ذلت کا نشان بن جاتا ہے۔پس آپ نے اگر مواخات کرنی ہے تو اسلامی قدروں کے مطابق کرنی ہے اور اس سے جہاں رئیس ازم کا مقابلہ ہو گا وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس کے ساتھ احمدیت کی راہیں بھی ہموار ہوں گی اور آپ کی زندگی زیادہ بہتر انداز میں کٹے گی زیادہ پر لطف ہو جائے گی۔پس قرآن کریم فرماتا ہے یاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْالَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَلَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ کہ ہو سکتا ہے وہ تم سے بہتر ہو جائیں۔دوسری بات اس میں یہ میں