خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 340
خطبات طاہر جلد 13 340 خطبہ جمعہ فرموده 6 مئی 1994ء اصلاحی کمیٹی کا جو میر اتصور تھا وہ بعینہ جرمنی کی اصلاحی کمیٹی میں موجود نہیں ہے۔اصلاحی کمیٹی تو ہے لیکن اس وقت حرکت میں آتی ہے جب بیماری سراٹھا چکی ہوتی ہے۔میں نے جو نصیحت کی تھی وہ یہ نہیں تھی بلکہ یہ تھی کہ اصلاحی کمیٹی صاحب فراست لوگوں پر اور گہری حس رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہونی چاہئے وہ برائیوں کو سونگھ کر پتا کریں کہ کہاں کہاں برائیوں کی بو ہے اور نظر نہ بھی آئیں تو ان کی شامہ حسن یعنی سونگھنے کی حسن ان کو بتا دے کہ کہیں کوئی خطرہ موجود ہے پھر ان کو با قاعدہ بیماری بننے سے پہلے دور کریں۔اگر آپ انتظار کرتے رہیں کہ کہیں فساد ہو جائیں کہیں دنگے شروع ہو جائیں۔کہیں کوئی قتل و غارت ہو جائے اور پھر اصلاحی کمیٹی حرکت میں آئے تو اصلاحی کمیٹی نہیں یہ تو پھر ایک پولیس کمیٹی بن جائے گی اور میں نے جب پہلی دفعہ نصیحت کی تھی تو خوب کھول کے یہ فرق ظاہر کیا تھا اور امور عامہ کو بھی میں نے سمجھایا تھا کہ امور عامہ کو میں پولیس نہیں دیکھنا چاہتا۔امور عامہ کو میں ایسا باشعور ادارہ دیکھنا چاہتا ہوں جو آئندہ پیش آنے والے خطرات کو بھانپ کر ان بیماریوں کی اصلاح کریں جو ابھی سر نہیں اٹھا سکیں اور ان بیماریوں کی اصلاح کریں جو و با بھی بن سکتی ہیں۔ان کا پیش خیمہ کریں، یہ ہے اصل امور عامہ کا کام یعنی اور کاموں کے علاوہ۔تو اصلاحی کمیٹی انہی خطوط پر قائم ہونی چاہئے اور اگر جرمنی میں اصلاحی کمیٹی اس بات کو بھلا بیٹھی تھی جیسا کہ مجھ پر تا ثر ہے تو مجلس شوری اس بات پر غور کرے اور صرف ایک مرکزی اصلاحی کمیٹی نہیں بلکہ علاقائی اور بڑے شہروں میں، شہر کی سطح پر بھی ایسی باشعور اصلاحی کمیٹیاں قائم ہونی ضروری ہیں جو ہر قسم کی برائیوں پر اس طرح نظر رکھیں کہ ابھی برائیاں عام انسان کو دکھائی نہ دینے لگیں۔دیکھیں جب پو پھوٹتی ہے تو بہت سے لوگ ہیں جن کو وہ پودکھائی نہیں دیتی اور اس کے لئے گہری فراست کی نظر چاہئے جسے تجربہ ہو۔اسی لئے پرانے زمانوں میں جبکہ روزہ شروع ہونے کا وقت معلوم کرنے کے لئے وہ ذرائع موجود نہیں تھے جواب میسر ہیں۔اس زمانے میں مجھے یاد ہے کہ بعض لوگ اٹھ کر باہر نکل کر دیکھا کرتے تھے پو پھوٹی ہے کہ نہیں اور اس میں کوئی بچہ کہ دیتا تھا پھوٹ گئی ہے کوئی کہتا تھا نہیں پھوٹی۔یعنی ابھی ایسی درمیانی سی حالت ہوتی تھی پھر وہ لوگ جن کو تجربہ ہوتا تھا وہ کہتے تھے کہ نہیں پھوٹ گئی ہے پکی بات ہے اور اس پر پھر اذان ہو جاتی تھی یا کھانا بند ہوتا تھا۔تو بعض دفعہ قومی حالات میں جو پو پھوٹتی ہے وہ بیماریوں کی پوبھی پھوٹا کرتی ہے اور ضروری نہیں کہ روشن