خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 333

خطبات طاہر جلد 13 333 خطبہ جمعہ فرموده 6 مئی 1994ء سکتا۔پس ہر پہلو سے یہ ایک نہایت ہی خطرناک مرض ہے۔ایک پہلو سے تو مختلف قوموں کا جرمنی میں اسلام میں داخل ہونا اور احمدیت میں داخل ہونا اللہ تعالیٰ کا ایک خاص احسان ہے ویسے تو اللہ کا احسان ہی احسان ہے مگر اس پہلو سے بھی خاص احسان ہے کہ اس سے پہلے جو یہ خطرہ تھا کہ وہاں پاکستانی اور غیر پاکستانی کی Poloraisation ہو جائے گی اور اس کا مجھے ڈر تھا اور ہمیشہ اس بارے میں میں مجلس عاملہ کو بھی ، دوسروں کو بھی نصیحت کرتا رہا وہ خطرہ اب ختم ہو چکا ہے۔ٹلا نہیں بلکہ مٹ چکا ہے کیونکہ اب پاکستانی مختلف قوموں میں سے ایک قوم ہے اور جرمن بھی مختلف قوموں میں سے ایک قوم ہیں، افریقن بھی مختلف قوموں میں سے ایک قوم ہیں۔مجھے یاد ہے جب پچھلے سالانہ جلسے پر امیر صاحب نے مجھ سے تعارف کروایا کہ اتنے افریقن ہوئے ہیں اور اتنے فلاں قوموں کے احمدی ہوئے ہیں تو ان کے چہرے پر خاص طور پر بشاشت تھی اور بے اختیار ان کے منہ سے نکلا کہ اب اللہ کے فضل سے وہ خطرہ ٹل گیا کہ فلاں پاکستانی ہے اور فلاں جرمن ہے اور ان کے آنے سے جرمنوں کی بھی بڑی تربیت ہوئی ہے تو بالکل درست بات انہوں نے کہی تھی اور جوں جوں اللہ کے فضل کے ساتھ مختلف قو میں جرمنی میں احمدیت میں داخل ہو رہی ہیں۔احمدیت کے اندر دو پولز کے آپس میں متصادم ہو جانے کا خطرہ یہ اور زیادہ بعید ہوتا چلا جا رہا ہے مگر یہ حالات کے نتیجے میں ہے اور حالات اتفاقی ہوا کرتے ہیں۔میں جس پہلو سے آپ کو متوجہ کر رہا ہوں وہ حالات سے بالا ، حالات سے الگ، اس گہری قرآنی تعلیم کے تعلق میں بات کر رہا ہوں کہ حالات خواہ کیسے بھی ہوں احمدیت میں Racism کی جڑ پکڑنے کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے اور اس کی بنا اسلام کی تعلیم ہو۔اس کی بنا اللہ تعالیٰ کی وہ نصیحتیں ہوں جو قرآن کریم میں بڑی شان اور قوت کے ساتھ فرمائی گئی ہیں۔پس ایک نصیحت پکڑلیں خواہ آپ کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑے جس میں آپ کے اندر Racism ابھرے اور کسی مخالف گروہ سے خطرات درپیش ہوں۔اسلامی تعلیم پر اگر آپ عمل کرنے والے ہوں گے تو Racism کو اپنی چوکھٹ کے قریب بھی نہیں آنے دیں گے یہ وہ زہر ہے جس کا روحانیت کے ساتھ ہمیشہ کا بیر ہے۔بیک وقت Racism اور روحانیت اکٹھے پل ہی نہیں سکتے۔جہاں Racism آیا وہاں روحانیت اور اللہ تعالیٰ کی محبت ہمیشہ کے لئے رخصت ہو جاتی ہے۔