خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 332

خطبات طاہر جلد 13 332 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 رمئی 1994ء قبول کریں گے تو ان کو فائدہ ہوگا اگر قبول نہیں کریں گے تو نقصان ہوگا یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے وہ تبدیل نہیں کر سکتے کیونکہ وہ مشورہ جو تقویٰ پر مبنی ہو اور تقویٰ اللہ کا نور ہے اس مشورے کی مخالفت کرنے والا خود اپنا نقصان اٹھاتا ہے،خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔تو میں مثال دے رہا تھا کہ دیکھو قوموں کے اوپر خواہ خواہ تمسخر کرنے کے نتیجے میں جولوگوں کو بے وقوف سمجھا کرتے تھے وہ خود بے وقوف بن گئے۔جولوگوں کو بزدل سمجھا کرتے تھے انہوں نے ان کی ایسی ذلت ناک شکستیں دیں کہ آج بھی ان کے تصور سے ان لوگوں کے سر جھکتے ہیں۔پس یہ جھوٹے اور غلط خیالات ہیں۔یہی وہ خیالات ہیں جنہوں نے یورپ میں آج پھر سر اٹھانا شروع کیا ہے اور Racism کا تصور پھر مضبوط ہوتا چلا جا رہا ہے۔احمدیوں کو خصوصا جرمنی میں اس کے خلاف عظیم الشان جہاد کرنے کی ضرورت ہے ایسا جہاد جو اعلیٰ اخلاق کے ہتھیاروں سے آراستہ ہو اور حسنِ خلق کی تلوار سے آپ دلوں کو فتح کرنے والے بنیں۔جب بھی آپ Racist کے ساتھ مقابلہ کریں گے اگر اس مقابلے میں انہی کے ہتھیار آپ اٹھائیں گے تو آپ کو ضرور مار پڑے گی اور لازما نقصان ہوگا کیونکہ Racism ان جگہوں پر پنپتا ہے جہاں اس ریس کی طاقت پہلے ہی سے بڑی ہوتی ہے ورنہ وہ دوسری قسم کے فسادوں میں تبدیل ہو جاتا ہے یعنی بغض کا جذبہ Racism نہیں بنتا۔Racism کا گہرا تعلق عددی اور دوسرے غلبے سے ہے جہاں غلبہ ہو اور یقین ہو کہ ہم طاقت ور ہیں اور بزور بازو ہم کسی چھوٹی سی اقلیت کو مٹا سکتے ہیں وہاں اگر اقتصادی لحاظ سے وہ اقلیت کوئی چیلنج بن جائے یا بعض دوسرے پہلوؤں سے اسے کچھ برتری حاصل ہو تو اس کے رد عمل میں Racism پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ بڑے زور کے ساتھ سر اٹھاتا ہے اور بعض دفعہ وہ ایک جنگ کا ایسا طوفان بن جاتا ہے جو سارے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔پس Racism کو اٹھنے نہ دیں یہ بہت ہی مہلک بیماری ہے اور اس کا بہت شدید نقصان پہنچے گا اور اسلام کی راہ میں بھی یہ زہر یایوں کہنا چاہئے کہ یہ ایک شیطانی روک ہے جو اسلام کے رستے روکے گی جہاں Racism ہو وہاں اعلیٰ اقدار کے پھیلنے کا کوئی سوال باقی نہیں رہا کرتا۔وہاں مقابلے اور جہت کے شروع ہو جاتے ہیں وہاں poloraisation یعنی دو سمتوں میں بعض قوتوں کا مرکوز ہو جانا ایسے خطوط پر ہوتا ہے کہ ان خطوط میں پھر مذہبی اقدار کو داخل ہونے کا موقع ہی نہیں مل