خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 334
خطبات طاہر جلد 13 334 خطبہ جمعہ فرموده 6 مئی 1994ء پس کسی پہلو سے بھی Racism کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔اس کا سایہ نہ پڑنے دیں اور اس ضمن میں بعض اعلیٰ اخلاقی قدروں کی ضرورت ہے محض مقابلے میں دلائل دینے کا کام نہیں، دلائل دینے کا موقع نہیں کیونکہ یہ وہ بیماری ہے جو دلائل سے سر نہیں ہوا کرتی ، دلائل کے ذریعے اس بیماری کا ازالہ ہو ہی نہیں سکتا۔جتنا مرضی آپ زور لگا کے دیکھ لیں۔جب جرمنی میں ریس ازم کے جذبات یہودیوں کے خلاف پرورش پانے لگے اور پھر وہ نائٹسی تحریک میں تبدیل ہوئے اس کے بعد آج تک ان کے کچھ اثرات باقی تھے اور جرمن قوم نے اپنی فراست کی وجہ سے ان خطرات کو ہمیشہ پیش نظر رکھا اور مختلف جرمن حکومتیں کوشش کرتی رہیں کہ دلائل کے ذریعے ان کا قلع قمع کریں اور لف طریق پر جرمن قوم کو سمجھاتی رہیں کہ اب ریس ازم کو قریب نہیں آنے دینا مگر جب حالات نے پلٹا کھایا ہے، جب برلن کی دیوار گری ہے تو بڑی تیزی کے ساتھ وہاں وہی خیالات دوبارہ ابھرنے شروع ہوئے ہیں۔پس ان کا عقل سے تعلق نہیں ہے ریس ازم کا جذبات سے تعلق ہے اور جذبات کی فتح عقل سے نہیں بلکہ اخلاق سے ہوتی ہے۔پس آپ کو اپنے اخلاق کو ترقی دینی ہوگی اور اخلاق کے ذریعے ریس ازم کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ایک خوبی جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح داخل فرمائی ہے گویا ہماری فطرت ثانیہ ہے کہ وہ لوگ جونئی قوموں سے احمدیت میں داخل ہوتے ہیں ان کے لئے احمدی بے حد محبت رکھتا ہے اور اپنے دل میں فدائیت کا جذبہ پاتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ریس ازم کے مقابلے میں ان کو مزید طاقت عطا کرے گی پس وہ بھائی جو مختلف قوموں سے جماعت احمدیہ میں داخل ہور ہے ہیں ان سے غیر معمولی محبت کا سلوک کرتے چلے جائیں تا کہ ان کے اندر آپ کے لئے محبت کا جذ بہ بڑھے، فدائیت کا جذبہ بڑھے، باہمی تعلقات کے رشتے ، محبت اور پیار کے رشتے ہوں اور یہ رشتے جب تک قائم رہیں رئیس ازم اس میں جگہ نہیں پا سکتا۔بہت سے ایسے میرے ذاتی تجارب ہیں کہ بعض قوموں سے آنے والے احمدیوں میں جب میں نے ایسے آثار دیکھے اور ان سے پہلے سے بڑھ کر زیادہ پیار کا سلوک کیا تو رفتہ رفتہ رئیس ازم کے تمام آثار ان کے دلوں سے مٹ گئے اور گویا جڑوں سے اکھڑ گئے اور اس کے آثار پھر ان کے چہروں سے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔جہاں پہلے ملاقاتوں کے بعد ایک چہرے پر تناؤ سا رہا کرتا تھا وہ سب تناؤ غائب۔بے اختیار محبت ، بے