خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 331

خطبات طاہر جلد 13 331 خطبہ جمعہ فرموده 6 رمئی 1994ء نفرتوں کے بچے دیا کرتی ہیں جن قوموں کی تذلیل کی جائے پھر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ بالا دستی اختیار کرتی ہیں اور پھر وہ نفرتیں یونہی مرمٹ نہیں جاتیں بلکہ اور نفرتوں کے بچے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔پس قومی تفاخر ہو یا ذات پات کا تفاخر ہو کہانیاں بنائی ہوئی ہیں لوگوں نے کہ کوئی میراثیوں کی کوئی جولا ہوں کی اور واقعہ یہ ہے کہ وہ تو میں جو میراثیوں اور جولا ہوں پہ ہنستی تھیں ان میں وہی تصور جس پر وہ ہنسا کرتی تھیں اس تصور کو لئے ہوئے بڑے جولا ہے اور بڑے میراثی پیدا ہوئے ہیں اور کشمیریوں پر ہنسا کرتے تھے دیکھو وہ کس بہادری سے کتنا عظیم جہاد کر رہے ہیں اگر چہ اسے اسلامی نقطۂ نگاہ سے سو فیصدی جہاد قرار دینا یہ ایک الگ مسئلہ ہے مگر ایک مظلوم قوم ہے جو اپنی آزادی کے لئے اس وقت سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہے ہندوستان کی حکومت چاہے پسند کرے یا نہ کرے یہ درست ہے اور یہ کہنے میں مجھے کوئی باک نہیں کہ باوجود اس کے کہ ہندوستان کے دورے پر جب میں گیا تھا اور ان کو مشورے دیئے تھے کہ تم ایسے تشدد کی راہ اختیار نہ کرنا یہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔تمہیں سمجھوتے کرنے چاہئیں، سیاسی سطح پر اتر کے ان باتوں کو سلجھانا چاہئے ، ورنہ دونوں ملکوں کا بڑا نقصان ہوگا اور کشمیر مفت میں تم دونوں کی آپس کی رقابت کی چکی میں پیسا جائے گا وہی ہو رہا ہے مگر جہاں تک کشمیری قوم کا تعلق ہے اس نے ثابت کر دکھایا ہے کہ جوان کو بزدل کہا کرتا تھا جھوٹ بولتا تھا، بڑی بہادر اور نڈر قوم ہے، ایسی عظیم قربانیاں اتنا مسلسل دیتے چلے جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔مجھے تو کشمیر کی حالت دیکھ کر الجیریا یاد آتا ہے چنانچہ میں نے ایک دفعہ ایک ہندوستانی لیڈر کو جو ملنے کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے ان سے کہا تھا کہ دیکھوڈیگال بنا پڑے گا آخر تمہیں۔ڈیگال جیهاز بر دست جرنیل اور پھر بعد میں ویسا زبر دست سیاست دان بھی فرانس میں کم پیدا ہوا ہے لیکن اپنی بڑائی کے باوجود، اپنے سب تکبر کے باوجود، اپنی سب فراست کے باوجود، جنگی میدان میں معاملہ فہمی اور داؤ پیچ سمجھنے کے باوجود آخر اسے شکست تسلیم کرنی پڑی۔پس ہندوستان کو بھی میں مشورہ دیتا ہوں کہ ظلم و ستم کی کھیل پنپا نہیں کرتی۔کشمیر کو دوست کے طور پر چھوڑ وتو بہتر ہے شدید ترین دشمن بنا کے نہ چھوڑنا۔ورنہ جن مقاصد کی خاطر تم ہندوستان کو ایک رکھنے کے لئے اور ایک یونٹ ، ایک اکائی بنائے رکھنے کے لئے جد و جہد کر رہے ہو ان کو شدید نقصان پہنچے گا مگر بہر حال ہماری تو ایک عاجزانہ حیثیت ہے۔ہم مشورہ دیتے ہیں نیکی اور سچائی کے ساتھ یہ قوموں کا کام ہے قبول کریں نہ کریں اگر