خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 330

خطبات طاہر جلد 13 330 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 رمئی 1994ء يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرُ قَوْمُ مِنْ قَوْمٍ عَلَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ کہ دیکھو کوئی قوم کسی دوسری قوم سے تمسخر نہ کرے کیونکہ ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر نکلیں یا بہتر ہو جائیں۔عَلَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا میں دونوں مضمون ہیں یعنی ایک پہلو یہ ہے کہ تمہیں کیا پتا کہ وہ تم سے بہتر ہوں اور بعید نہیں کہ وہ تم سے بہتر ہوں کم سے کم اس برائی میں تو ملوث نہیں جسے تم Raceism کہتے ہو اور قومی بنیاد پر کسی اور کو تحقیر سے نہیں دیکھ رہے۔دوسرے یہ کہ ایسے لوگ جو آج نیچے ہیں کل خدا تعالیٰ کی تقدیر ان کو اوپر بھی لے آیا کرتی ہے اور ہمیشہ قو میں ایک حال پر نہیں رہا کرتیں ، اس لئے فرمایا کہ تم یہ نہ کرنا کہ قومی برتری کے خیال سے دوسروں کو تحقیر سے دیکھنا۔پاکستانی بھی وہاں بہت کثرت سے ہیں اور بعض دفعہ پاکستانیوں کا طرز عمل بھی ایسا ہوتا ہے جس سے یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیں اپنے سے کم تر دیکھ رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں بھی رد عمل پیدا ہو جاتے ہیں۔باہر کی قوموں میں یہ قومی برتری کا تصور نسبتا سادہ ہے اگر چہ سخت ہے۔سادہ اس پہلو سے کہ سفید قوموں کو سفید قوموں کی برتری کا خیال ہے اور پھر بعض علاقوں میں یہ برتری کا خیال جرمن برتری یا فریج برتری یا انگلش برتری میں بھی تبدیل ہو جاتا ہے مگر ہمارے ہاں بدنصیبی سے قومی برتری کے خیالات یا تو ہمات فرقہ فرقہ اتنے بٹے ہوئے ہیں کہ ذات پات کی تمیز ، قوموں کی تمیز یہ اتنی جڑیں پکڑ چکی ہے اور پھر مذہبی بنیادوں پر بھی ایسی باتیں ہیں جن کا ہندوستان کے معاشرے پر ہمیشہ بہت برا اثر پڑا ہے مثلاً ایک زمانہ تھا جب کہ تحریک پاکستان چل رہی تھی اس زمانے میں ہندوؤں کے او پر تمسخر اور مذاق کہ لالہ قوم ہے اس نے کیا کرنا ہے ان کو پتا ہی نہیں لڑائی کیا ہوتی ہے اور پھر ان کے ہاتھوں اتنی مار کھائی اور ایسی ذلت اٹھائی کہ انسان اس کے تصور سے بھی شرم کے مارے سر جھکا لیتا ہے۔یہی حال بنگلہ دیش میں اس وقت ہوا جبکہ ہندوستان کی فوجوں نے پاکستان کی ان فوجوں کو جو بنگلہ دیش میں تھیں مگر ہر دلعزیز نہیں تھیں بنگلہ دیش کی مدد سے ذلت آمیز شکست پہنچائی اور اس سے پہلے ان کے نعرے بڑے بڑے بلند تھے یہ کیا حیثیت رکھتے ہیں ہم ان کو یوں کچل دیں گے، بنگالی کیا چیز ہے۔اس بنگالی نے پھر اس ذلت کے ساتھ ان کو اٹھا کر اپنے ملک سے باہر پھینکا ہے کہ آج تک پاکستان کا نام قابل فخر نہیں بلکہ قابل شرم بنا ہوا ہے اور اگر کوئی شخص آج بھی پاکستان کی بات کرتا ہو، اس کی تائید کرتا ہوا وہاں ملے گا تو ساری قوم اس سے نفرت کا سلوک کرتی ہے اس لئے کہ نفرتیں