خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 311 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 311

خطبات طاہر جلد 13 311 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اپریل 1994ء شامل نہ کرتے تو وہ بھی صرف اپنے گھر کی ضروریات کے متعلق ہی اپنے دماغوں سے کام لینے کے عادی ہوتے۔“ جو عام روز مرہ کا دستور ہے ہر ایک اپنے گھر کی باتوں میں ہی منہمک رہتا ہے۔دو لیکن جب ہم نے ان کو اپنی مشاورت میں شامل کر لیا تو اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے دماغ ترقی کر گئے چنانچہ ان کی آراء کے ٹکڑے ٹکڑے مل کر ایک مکمل سکیم بن جاتی ہے جو جماعت کے لئے نہایت مفید اور بابرکت ثابت ہوتی ہے۔“ (تفسیر کبیر جلد دہم صفحہ 183-182 ) پس اسی طریق کو تمام مجالس شوریٰ عالمگیر میں جاری رکھنا چاہئے اور اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔مشکل یہ درپیش ہوتی ہے کہ بعض لوگوں کو مخالفانہ رائے کو سننے اور برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا اور بعض لوگوں کو مخالفانہ رائے دینے کا سلیقہ نہیں آتا۔وہ مجالس شوریٰ جو خلیفہ وقت کی صدارت میں منعقد ہوتی ہیں ان میں یہ دونوں منفی عناصر شاذ کے طور پر کبھی ظاہر ہوتے ہیں ورنہ نہیں کیونکہ خلیفہ وقت کی موجودگی میں جو مخالفانہ رائے بھی دیتا ہے وہ سلیقے سے بات کرتا ہے۔وہ ادب کا پہلو ، وہ ذاتی تعلق کا پہلو، اس کے اندر چھپے ہوئے نشتر کو کند کر دیتا ہے۔اگر غصے سے بھی بات کرنی ہو تو نکلتی اس طرح ہے کہ بہت کم غصہ اس کے ساتھ چمٹا رہ جاتا ہے اور جہاں تک حوصلے کی بات ہے اللہ تعالیٰ خلیفہ وقت کو حوصلہ عطا فرماتا ہے، ہر قسم کی مخالفانہ رائے سنتا ہے اور اس حو صلے میں خلیفہ وقت کی ذاتی خوبی نہیں بلکہ نظام کی خوبی ہے کیونکہ کوئی بھی اس کی رائے کی مخالفانہ رائے نہیں ہوتی۔ہر رائے تائید کی نیت سے اٹھ رہی ہے اور خلیفہ وقت کے فیصلوں کو تقویت دینے کی خاطر اٹھ رہی ہے۔اس لئے بظاہر لوگوں کو وہ رائے مخالفانہ معلوم ہومگر وہ مخالفانہ نہیں ہوتی۔چنانچہ بسا اوقات میرا بھی یہ تجربہ ہے کہ ایک منشاء میں نے ظاہر کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت متقی ہے، وہ فیصلہ نہیں تھا، محض منشاء تھا۔انہوں نے اس کو سنا اور بعض ان میں سے سمجھتے تھے کہ اس میں فلاں پہلورہ گیا ہے۔چنانچہ اٹھ کر بعض دفعہ بڑی لجاجت سے معذرت کرتے ہوئے بات کرتے ہیں۔میں ان کو کہتا ہوں کوئی ضرورت نہیں ، کسی تمہید کی ضرورت نہیں ، آپ شوق سے بتائیے کیا بات ہے۔چنانچہ ان کو بعض دفعہ حوصلہ دے کے کھڑا کرنا پڑتا ہے۔بتائیں تو سہی کیا بات ہے، وہ جب بتاتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ