خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 310

خطبات طاہر جلد 13 310 خطبه جمعه فرمود و 29 اپریل 1994ء بھی اس کے ساتھ نہ ملالی جائے۔سو میں سے صرف ایک دفعہ مجھے اپنے طور پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔“ اور جو میں نے گزشتہ مجالس شوری کے فیصلوں کا جائزہ لیا تھا میرے خیال میں سو میں سے ایک دفعہ بھی زیادہ ہے۔اس سے بھی کم مرتبہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوتنہا فیصلہ نافذ کرنا پڑا ہے۔لیکن ایک بات جو عام طور پر نظروں سے پوشیدہ رہی ہے اور اسی پر یہ مضمون روشنی ڈال رہا ہے وہ یہ ہے کہ فیصلے کے وقت یہ نہیں ہوا کرتا کہ خلیفہ وقت الگ بیٹھا ہے اور ایک طرف سے فیصلے آ رہے ہیں اور آخر پر وہ بتاتا ہے کہ یہ منظور ہے، یہ نا منظور ہے۔وہ اپنی رائے کو مسلسل مجلس شوری کے ممبران کی رائے میں داخل کر کے ان کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے۔یہاں تک کہ رائے جب آخری شکل اختیار کرتی ہے تو اس سے پہلے ہی خلیفہ اسیح کی رائے اور اس کے مشورے، اس کی سوچ پوری طرح، پوری مجلس شوری کی سوچ اور اس کے مشورے، اس کی رائے بن چکے ہوتے ہیں۔اس لئے ویسے بھی ویٹو کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔حضرت مصلح موعود کی بھی عادت تھی کہ بعض دفعہ کسی آدمی نے نام نہیں لکھوایا ،مشورے مکمل ہو گئے لیکن دور کسی ایک دیہاتی پر نظر پڑی جو ایک کونے میں خاموش بیٹھا ہے اس کو مخاطب کر کے نام لے کر اٹھایا کرتے تھے کہ چودھری صاحب آپ بھی اٹھیں، آپ نہیں بولے۔بعض دفعہ وہ انکسار کے ساتھ کہہ دیا کرتے تھے کہ ”جی میں کی بولاں“۔انہوں نے کہا نہیں نہیں آپ مجھے بتائیں، دیہاتیوں کا مشورہ بھی مجھے چاہئے۔ہمارا مشورہ مکمل نہیں ہو گا جب تک مجھے دیہاتی، جس طرح کے آپ ہیں اس قسم کی نمائندگی کا مشورہ نہ ملے چنانچہ پھر وہ مشورہ دیا کرتے تھے۔یہ وہ عمل ہے جو اب بھی خدا کے فضل سے جاری ہے لیکن میں بتارہا ہوں تاریخی لحاظ سے ایک بہت ہی دلچسپ حوالہ ہے کس طرح مجلس شوری کا ارتقاء ہوا ہے۔کس طرح مجلس شوری میں خلافت اور جماعت اسی طرح ہم آہنگ ہو جاتی ہے جیسے روز مرہ کاموں میں ویسے ہی ہم آہنگ ہے اور دوا لگ وجود نہیں رہتے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: سو میں سے صرف ایک دفعہ مجھے اپنے طور پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے ورنہ ننانوے دفعہ میں فیصلہ اس طرح کرتا ہوں کہ کچھ اس کی رائے میں سے لیا اور کچھ اس کی رائے میں سے اور ایک نتیجہ پیدا کر لیا۔اگر عوام کو مجلس مشاورت میں