خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 312
خطبات طاہر جلد 13 312 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اپریل 1994ء بڑی معقول رائے تھی۔پس نہ وہ مخالفت کی نیت سے بات کرتے ہیں، نہ سننے والا مخالفانہ بات سمجھ کر سنتا ہے اور یہ وہ بہترین صحت مند ماحول ہے جو جماعت احمدیہ کی مجلس شوری کے سوا دنیا کے پردے پر کہیں دکھائی نہیں دے گا۔آپ چھوٹے سے چھوٹے ، سادہ سے سادہ ملک میں چلے جائیں وہاں چھوٹے ہونے اور سادگی کی خوبیاں ملیں گی۔بڑے سے بڑے ملک میں چلے جائیں وہاں طاقت کے مظاہرے ہوں گے اور طاقت کے نتیجے میں جو بات میں قوت پیدا ہوتی ہے وہ بھی دکھائی دے گی مگر یہ پاکیزگی جو جماعت احمدیہ کی شوری کے ماحول کی ہے یہ ہر وجود کا ایک جان ہو جانا اور بڑی محبت اور تقویٰ کے ساتھ اپنی باتوں کو ادا کرنا اس کا کوئی عشرِ عشیر بھی آپ کو کہیں اور دکھائی نہیں دے گا۔لیکن جب خلیفہ وقت موجود نہ ہو تو پھر میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ کچھ بے وقوفیاں سراٹھانے لگتی ہیں۔بے وقوفیاں ان معنوں میں کہ بات کرنے کا سلیقہ نہیں۔اکھڑر بات کی، اس طریقے پہ بات کی گویا روڑا مار دیا ہے اور نہ ان صدران کو اتنا حوصلہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھ لیں چنانچہ کئی دفعہ ہماری مجالس شوری میں کرسی چلنے کی حد تک تو خدا کے فضل سے کبھی نہیں پہنچی جیسے کرسیاں دوسرے ایوانوں میں چل جاتی ہیں مگر تلخ بات ضرور چل پڑتی ہے یا چل پڑتی رہی ہے اور ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بہت غیر معمولی فضل فرمایا یہ ترکیب سمجھا دی کہ ان سب سے میں نے کہا کہ آپ اپنی ریکارڈنگ کیا کریں تا کہ جب بھی میں نے کچھ سننا ہو میں ریکارڈ منگواؤں اور خودسنوں۔پس اس بات کا پہنچنا تھا کہ کم و بیش ویسے ہی احساس ہو گیا جیسے میں موجود ہوں اور یہ جو موجودگی کا احساس ہے یہ بہت ہی ضروری چیز ہے جماعت نے خلافت سے جو تعلق کا احساس سیکھا ہے۔اس کا اگلا قدم وہ ہے کہ اللہ کی حضوری میں رہیں۔جن کو اس دنیا میں حضوری کا تجربہ نہ ہو، اس کی مشق نہ ہو ان کو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی حضوری کا تصور بھی نہیں ہوتا اور عملاً وہ دو دنیاؤں میں زندگی بسر کر رہے ہیں ایک ان کی اپنی دنیا ہے، ایک تصور میں خدا تعالیٰ سے تعلق کی دنیا ہے۔ان دونوں کا رشتہ کوئی نہیں ہوتا۔تو مجلس شوریٰ ہمیں یہ رشتے قائم کرنے کے سلیقے بھی عطا کرتی ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ تمام دنیا میں مجالس شوری انہی نصیحتوں کو پیش نظر رکھ کر جاری رہیں گی اور جاری کی جائیں گی اور اعلیٰ اخلاق کی حفاظت کی جائے گی کوئی بات اس طریقے پر نہیں کی جائے گی جس میں کسی قسم کی تلخی کا یا اپنے بھائی کی دل آزاری کا عنصر ہو اور اگر کوئی سادگی یا نادانی یا نا تجربہ کاری سے ایسی بات کر دیتا ہے تو حوصلے کے ساتھ