خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 293
خطبات طاہر جلد 13 293 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 اپریل 1994ء پیدا ہو جائیں آپ کا شمار کالوں میں ہی رہے گا۔پس کالے اور گورے کی بحث سے تو یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔سب کو گورا بننا ہے یعنی نورانی لحاظ سے، حضرت محمد مصطفی ﷺ کا نور اپنانا ہے۔وہ ایسا نور ہے جو ہر کالے کو گورا کر دیتا ہے، ہر گورے کا حسن چمک اٹھتا ہے۔پس یہی وہ نور ہے جس نے دنیا کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا ہے۔آپ کے کاموں میں، یعنی امریکہ کو میں مخاطب ہوں خصوصیت سے، آپ کے کاموں میں ہرگز برکت نہیں پڑسکتی جب تک آپ میں سے کچھ احساس کمتری کے شکارر ہیں اور اس کے نتیجے میں اگر کھلم کھلا نہیں تو اندرونی تفریق باقی رہے۔میں نے مثالیں دی ہیں کئی دفعہ، کہ دیکھو افریقہ میں بھی تو وہی نسل ہے جس کی تم اولا د ہو۔افریقن احمدیوں میں تو میں نے کہیں احساس کمتری نہیں دیکھا، کہیں کوئی غلط ردعمل نہیں دیکھا بلکہ تعجب ہوتا ہے بعض دفعہ افریقہ میں ایک افریقن کو امام مقرر کیا جاتا ہے ایک افریقن کو عہدہ دیا جاتا ہے اور وہ آ کر پیغام دیتے ہیں، سمجھاتے ہیں کہ ہمیں تو پاکستانی سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ جیسی ان کی تربیت ہے، جیسا وہ نیک اثر ہم پر ڈالتے ہیں ، ہمارے اپنی بھائی ابھی اس مقام کو پہنچے نہیں ہیں اور بڑی بے تکلفی سے وہ بات کہتے ہیں ،ان کے چہروں پر مجھے کہیں سیا ہی دکھائی نہیں دی کبھی دکھائی نہیں دی ، وہ تو نور سے دسکتے ہوئے چہرے لگتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ احمدیت کی تربیت پا کر آنکھوں میں سیاہ سفید کی تفریق ہی مٹ جاتی ہے۔کبھی مجھے یاد نہیں کہ کوئی احمدی ملا ہو اور میں نے اس کا رنگ دیکھا ہو، کون سا رنگ ہے۔اس کی روح دکھائی دیتی ہے اور وہ سب روحیں پیاری دکھتی ہیں۔پس اگر کہیں کسی پاکستانی احمدی میں کوئی ایسا نقص رہ گیا ہے جس کا بداثر پڑ رہا ہے تو اس کو میرا مشورہ ہے کہ وہ استغفار سے کام لے۔اس کی وجہ سے اگر ایک یا دو یا دس کو ٹھوکر لگے تو مسیح کا یہ قول میں اسے بتاتا ہوں جنہوں نے فرمایا کہ اگر کسی شخص سے کسی کو ٹھوکر لگے تو اس سے بہتر تھا کہ وہ ٹھوکر لگانے والا پیدا نہ ہوتا۔لیکن وہ جن کو بات بات پر ٹھوکر لگے ان کو سنبھالنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔یہ ٹھوکر لگنے کا مزاج بڑا خطرناک ہے اور احساس کمتری سے یہ ٹھوکر لگنے کا مزاج پیدا ہوتا ہے، جس کو احساس کمتری نہ ہو ان کو ٹھوکر لگا ہی نہیں کرتی۔اس لئے امریکہ کے لوگ سن رہے ہوں یا دوسرے لوگ، ہر جگہ کو یہ پیغام واحد ہے، خدا کے لئے کبھی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ، آپ اللہ کی جماعت ہیں اور اللہ کی جماعت کو احساس کمتری زیب نہیں دیتا۔ایسے لوگوں کو جب دنیا تکبر کی وجہ سے نیچے دیکھتی ہے تو اللہ کی نظر میں وہ اور اونچے ہو جاتے ہیں۔