خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 294
خطبات طاہر جلد 13 294 خطبه جمعه فرمود و 22 اپریل 1994ء قرآن کریم فرماتا ہے کہ تم کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاتے ، ایسے رستوں پر نہیں چلتے جہاں دنیا تمہیں غضب اور ذلت کی نظر سے دیکھ رہی ہو اور خدا کے نزدیک تمہارا مر تبہ نہ بڑھ رہا ہو۔اللہ کو تم اور پیارے ہو جاتے ہو۔تو جس جماعت کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ یقین دہانی ہے، یہ ضمانت ہے کہ تمہیں دنیا میں کوئی ذلیل نہیں کر سکتا اور جب ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا میری نظر میں تمہارا مرتبہ اور بلند، بلندتر ہوتا چلا جائے گا۔اس جماعت کے پاس احساس کمتری پھٹکنا بھی نہیں چاہئے اور جو پھر بھی ایسی باتیں کرے وہ ظالم ہے اور ان ظالموں سے آپ کو متنبہ رہنا چاہئے۔پس آپس میں کچی محبت پیدا کریں ، ہم سب بھائی بھائی ہیں، ہمارے رنگ ونسل کی تفریق ہمارے اندر نہ کوئی خوبی پیدا کرتی ہے نہ ہمیں ذلیل کر سکتی ہے۔تقویٰ ہی ہے جو ہماری عزت کا باعث ہو سکتا ہے اور تقویٰ کی عزت بندوں کے حوالے سے نہیں ہوا کرتی بلکہ اللہ کے حوالے سے ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ أَكْرَمَكُمْ تم میں سے معزز عِندَ اللهِ انْقُكُم (الحجرات : 14) اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے جو معزز ہے اس کی عزت کیا کرو اور جو متقی ہے اس کی عزت کیا کرو، قرآن کریم میں یہ آیت کہیں نہیں ملتی۔کیونکہ تقویٰ کی عزت از خود قائم ہوتی ہے اور اللہ کے حوالے سے قائم ہوتی ہے اور اس فیصلے کا اختیار کہ کون متقی ہے، کون نہیں ہے، اللہ ہی کو ہے اور جب اللہ کسی کو متقی سمجھے ، جس طرح میں نے بات کا آغاز کیا تھا، پھر فرشتوں کو خود حکم دیتا ہے، وہ ہوائیں چلاتے ہیں، وہ زمین پر اترتے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں ایسے شخصوں کی محبت بھر دیتے ہیں۔پس انہیں کسی محبت کی طلب نہیں ہوتی، نہ وہ اپنا ہاتھ محبت مانگنے کے لئے آگے بڑھاتے ہیں۔خدا کی طرف سے وہ محبتیں ان کو عطا ہوتی ہیں کیونکہ تقویٰ کا تعلق اللہ سے ہے اور اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتَكُمْ تم میں سب سے معزز اللہ کے نزدیک وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔جماعت احمد یہ ناروے کو بھی میرا یہی پیغام ہے۔آج کل یورپ میں بھی Racism سر اٹھا رہا ہے اور Racism کا بھی دراصل احساس کمتری سے تعلق ہے۔دنیا میں کوئی چیز احساس برتری نہیں ہے۔احساس برتری اگر ہو یعنی معلوم ہو کہ میں حقیقہ بہتر ہوں تو وہ دل میں نرمی پیدا کرتا ہے، انکسار پیدا کرتا ہے۔تکبر، احساس کمتری کا بچہ ہے اگر تکبر حقیقت میں زیب دیتا تو اللہ تعالی تکبر کو