خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 276
خطبات طاہر جلد 13 276 خطبه جمعه فرمود : 15 اپریل 1994ء شوری میں عموما زیر بحث آتی رہنی چاہئیں۔میں نے محسوس کیا ہے کہ کچھ عرصے کے بعد، جب ایک جگہ مجلس شوری کا نظام جاری ہو جائے تو پھر لوگ اپنے ذہنوں پر زور دیتے ہیں اور تلاش کرتے ہیں کہ کیا بات ہم لکھیں کہ ہمارا اس سال کا بھی ایجنڈا بن جائے اور وہ بنائے ہوئے ایجنڈے غیر حقیقی ہوتے ہیں اور مصنوعی ہوتے ہیں اور ان بنائے ہوئے ایجنڈوں میں بعض دفعہ نہایت لغو باتیں راہ پا جاتی ہیں۔ایک آدمی کو شوق ہے کہ میں ہر سال کچھ نہ کچھ ضرور لکھوں اور بسا اوقات سالہا سال کے مجالس شوری کے ایجنڈے دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ بعض لوگ یا بعض جماعتوں کو مسلسل یہ شوق رہتا ہے کہ ہم ضرور اس میں حصہ لیں اور وہ کوشش کر کے بناوٹ کے ساتھ مشورے بھجوانے کی کوشش کرتے ہیں یا جماعتیں کرتی ہیں، اور ایسے مشورے غیر حقیقی اور بے معنی سے دکھائی دیتے ہیں بعض دفعہ ان کو رستے ہی میں روک لیا جاتا ہے، بعض دفعہ جب شوری تک پہنچ بھی جائیں تو عجیب سے دکھائی دیتے ہیں، معلوم ہوتا ہے کسی نے کوشش سے، بناوٹ سے یہ بات پیش کی ہے۔مشورہ وہی حقیقی مشورہ ہے جو از خود ضرورت کے مطابق دل سے پھوٹے۔وہ ضرورتیں کون کون سی ہیں جن کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے ، جن سے آپ کو دل لگا لینا چاہئے۔جن کے نتیجے میں پھر صحیح مشورے آپ کو اللہ تعالیٰ خود عطا فرمائے گا وہ ضرورتیں میں چند آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلی ضرورت تو تالیف قلب کی ہے۔جماعت کو کس طرح آپس میں محبت سے باندھے رکھنا ہے تا کہ کہیں بھی، کسی سطح پر بھی کوئی تلخی پیدا نہ ہو۔اس سلسلے میں تمام جماعتوں میں ازخود ایسے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔کوشش کر کے تجسس کی ضرورت نہیں بلکہ از خود سامنے آتے رہتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ بعض باتیں جماعت میں ایسی راہ پاگئی ہیں جس سے آپس کی محبت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔بعض دفعہ چھوٹے حلقوں میں بعض جماعتوں میں یہ تکلیف دہ باتیں پائی جاتی ہیں۔بعض دفعہ بعض جماعتوں میں بالعموم ایسی عادتیں پڑ جاتی ہیں جن سے محبت کا ماحول قائم نہیں رہتا اور اس کے نتیجے میں ہمیشہ آپس میں اختلاف رہتا ہے۔چنانچہ بعض جماعتوں کا، میں نے ایک دفعہ نام بھی لیا تھا، اس پر ان کی طرف سے معذرت کے خطوط بھی آئے ، اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہے یا نہیں ،مگر آج میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا۔بالعموم دنیا میں جہاں بھی جماعت کی ترقی رکتی دکھائی دے وہاں خدا کے فرشتوں کا تو کوئی قصور نہیں ، وہ تو ہر جماعت کے لئے ترقی کے