خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 275

خطبات طاہر جلد 13 275 خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1994ء جمع بات کہ دینا تھاتو حضرت خلیفہ اسی الثانی رضی اللہ تعالی اور بعد میں حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ اس پر شدید رد عمل دکھاتے تھے اور کہتے تھے ہر گز ایسی بات نہیں کرنی جس سے تمہارے بھائی کی دل شکنی ہوتی ہو یا تمہارے انداز میں تکبر کا عنصر شامل ہو جائے۔بعض لوگ بعض دفعہ ایک شخص کا ذکر کر دیتے تھے تو مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے بھی ایک نام لے کر تبصرہ کیا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث مجھ پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ یہ تمہیں نہیں کرنا چاہئے تھا کیونکہ گفتگو میں جو دلیل میں دے رہا تھا وہ نظر آ رہا تھا کہ خدا کے فضل سے غالب ہے اور اس کے بعد جس شخص کی دلیل کے جواب میں یہ دلیل تھی وہ بھی جماعت میں پرانے خادم اور ایک مرتبہ رکھتے تھے تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے بالکل درست میری تربیت فرمائی کہ تمہیں اس موقع پر نام نہیں لینا چاہئے تھا۔دلیل کے مقابل پر دلیل سے بات رکھتے یہی کافی تھا۔تو اس لئے سب سے پہلا پیغام میرا مجلس شوریٰ پاکستان کو اور دیگر مجالس شوری کو یہی ہے کہ قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تالیف قلب کا اور ایک دوسرے سے اکٹھے ہو کر بھائیوں کی سی شکل اختیار کر جانے کا، مجلس شوری کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔آپس کی الفت نہ ہو تو مشورے بے معنی، بے حقیقت بلکہ بسا اوقات نقصان دہ ہو جاتے ہیں اور شوری کا اعلیٰ مقصد ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔اس لئے ہر مجلس شوریٰ میں دنیا میں کہیں بھی منعقد ہو، خواہ وہ جماعت کی عمومی مجلس شوری ہو یا ذیلی مجالس کی ہوں ، اس نصیحت کو خوب پہلے باندھ لینا چاہئے کہ شوری کے دوران بھی کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے کسی بھائی کی دل شکنی ہو اور شوری کے علاوہ بھی محبت کا ماحول قائم کرنا شوریٰ کے بابرکت ہونے کے لئے نہایت ضروری ہے۔پس تالیف قلب کا جو مضمون میں اگلے جمعے سے دوبارہ شروع کروں گا اس کی اہمیت شوری کے لحاظ سے بھی بہت بڑی اہمیت ہے اور جیسا کہ میں نے بار ہا پہلے بھی ذکر کیا ہے میرے نزدیک جماعت کی زندگی دو چیزوں میں ہے ایک خلافت اور ایک شوری۔یہ دو ایسی چیزیں جن کے اندر جماعت کی بقا کا راز ہے ہمیشہ ہمیش کے لئے اس بات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے، اپنے دلوں میں اس کو جاگزیں کر لیں ، اپنی فطرت ثانیہ بنالیں کہ خلافت سے وابستگی اور مجلس شوری سے اس کے تمام لوازمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے احترام اور ادب کا تعلق اور اس نظام کو تقویب دینا جماعت کی بقا کے لئے انتہائی ضروری ہے۔اب میں شوری کے متعلق چند اور باتیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو آپ کی مجالس