خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 277
خطبات طاہر جلد 13 277 خطبه جمعه فرمودہ 15 اپریل 1994ء وہ پیغام لے کے آرہے ہیں، ضرور اس جماعت میں کوئی ایسا نقص واقع ہوا ہے جس کے نتیجے میں ان کی ترقی رک گئی ہے۔اس لئے وہ نقص تلاش کرنا یہ بہت ہی اہم کام ہے اور اس کا جس حد تک مجلس شوریٰ سے تعلق ہے اپنی شوریٰ میں ان باتوں کو پیش کرنا چاہئے کہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ باتیں پائی جاتی ہیں۔لیکن اس میں ایک بہت ہی اہم احتیاط ہے جس کی طرف میں آپ کو خصوصیت سے متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔جب بھی ایسے نقائص کی بحث ہو جن کا تعلق جماعت میں افتراق پیدا کرنے اور دلوں کے پھاڑنے سے ہو وہ باتیں اپنی ذات میں بہت حساس ہوتی ہیں اور اگر ذرا بھی بے وقوفی سے و بات مجلس شوریٰ میں پیش کی جائے تو اپنا مقصد حاصل کرنے کی بجائے اپنے مقصد کے بالکل برخلاف نتیجہ پیدا کرتی ہے۔چنانچہ بعض مجالس شوری کی رپورٹوں سے مجھے پتا چلا کہ بعض دفعہ اس نیک نیت سے کہ ہماری جماعت میں یہ یہ باتیں ہو رہی ہیں ہمیں ان کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے ، اس نیک نیت سے یا اس نیک نیت کا عذر رکھ کر ، ایک مشورہ پیش کیا گیا اور پھر وہاں ایسی لڑائیاں آپس میں ہوئیں، ایسی ایک دوسرے کے اوپر باتیں کی گئیں جو ہرگز مجلس شوری کے شان کے مطابق ہونا تو درکنار، جماعت احمدیہ جس اعلیٰ اخلاقی معیار پر ہے اس کی کسی عام مجلس میں بھی زیب نہیں دیتیں اور جب ایسی باتیں ہوئیں اور مجھے علم ہوا تو پھر میں نے فورا اقدام کیا بعض لوگوں کو جماعت سے بھی خارج کرنا پڑا ہے، بعض لوگوں کو جماعت سے خارج تو نہیں کیا گیا مگر ان کے چندے بند کر دیئے گئے کیونکہ ان کی باتوں سے دکھائی دے رہا تھا کہ انہوں نے معاملات کو ذاتی بنالیا۔پس یہ اہم بات ہے جس کی طرف میں خصوصیت سے پاکستان کی جماعتوں کو بھی اور مجلس شوری مرکز یہ کو بھی اور تمام دنیا کی جماعتوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔شوری کیا ہے؟ شوری دلوں کو باندھنے کا ایک ذریعہ ہے اور شوری سے جتنا اعتماد، انتظام اور اتحاد جماعت میں پیدا ہوتا ہے بہت کم دوسرے ذرائع سے پیدا ہوتا ہے یا خلیفہ وقت کا براہ راست جماعت سے ایک تعلق ہے اور باہمی اعتماد کا ایک تعلق ہے یا پھر مجلس شوریٰ کا جماعت کے ساتھ ایک باہمی اعتماد کا تعلق ہے اور جیسا کہ میں نے قرآن کریم سے ثابت کیا ہے، مجلس شوری کے ذکر میں جب اللہ تعالیٰ نے یہ نظام جاری فرمایا وہیں اس سے پہلے دلوں کے باندھے جانے ، آپس کی محبت کے ذکر اور حضرت اقدس محمد مصطفی من کے اس خلق کا ذکر فرمایا ہے کہ اگر تو ان کے لئے نرم نہ ہو جاتا تو یہ لوگ یوں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت کو آپس میں اکٹھا کرنے اور جماعت کی باہمی