خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 264
خطبات طاہر جلد 13 264 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 اپریل 1994ء نہیں ہو۔اس لئے قوم کو یہ حق دے دیا ہے کہ اپنے بے وقوفوں کے مال پر ، ان کے اپنے مال پر بھی ان کو تصرف نہ کرنے دو جب تک رشد کے یعنی عقل اور فہم کے آثاران میں نہ دیکھو۔جب تک تربیت کر کے ان کو اس لائق نہ بنا دو کہ وہ خود اپنے مال کی حفاظت کر سکیں۔پس اگر وہاں یہ اصول ہے تو جہاں آپ اپنا مال دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہوں، خواہ وہ نیک نیتی سے رکھتے ہوں، وہاں یہ احتیاطیں بدرجہ اولی لازم ہیں اگر ان احتیاطوں میں آپ نے پورے انہماک سے کام نہ لیا تو ایسے لوگ پھر نقصان بھی پہنچا دیں گے اور پھر اکثر ایسے لوگ ناشکرے بھی رہتے ہیں۔آپ ان کی مدد کریں گے، آپ ان کے سپر د کام کریں گے، کچھ پیسے کھا جائیں گے، کچھ تجارت کے مال کا نقصان پہنچا جائیں گے اور بعد میں باتیں بنائیں گے کہ ہمارا اس نے کھالیا ہے۔ہم نے اس کی خاطر اتنی محنت کی ، ہم نے اس کے لئے ایسے ایسے ٹھیکے حاصل کئے اور آخر پر نتیجہ نکلایہ کہ ہمیں دھکے دے کر باہر نکال دیا۔عمر بھر کی بدنامی آپ کے ساتھ لگی رہے گی۔یہ تو درست ہے کہ اگر خدا کی خاطر آپ ایسا کریں گے، گرے پڑوں کو سہارا دینے کے لئے ایسا کریں گے تو آخرت کا اجر تو آپ کا یقینی ہے لیکن مومن کو تو فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً کی دعا کی تعلیم دی گئی ہے۔یہ سکھایا گیا ہے کہ محض ایسے کام نہ کرو کہ آخرت میں جن کا اجر دیکھو، ایسے کام کرو اور ایسے نیک پھلوں کی دعائیں کرو کہ اس دنیا میں بھی تمہیں حاصل ہوں اور تمہارے لئے فائدہ مند ہوں اور آخرت میں تو بہر حال اس سے بہت زیادہ فوائد تمہارے انتظار میں تمہاری امانت رکھیں گے۔وہ کام گویا آپ کے نیک اجر کے امین بن جاتے ہیں۔تو ان معنوں میں میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے میں سے گرے پڑے ایسے لوگوں کی بحالی کے لئے کوشاں ہوں جو کسی بد عادت کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض ایسی مجبوریوں یا حادثات کے نتیجے میں ایک حال کو پہنچ گئے ہیں۔محض کچھ کچھ پیسے دے کر ان کو زندہ رکھنا ان کی عزت نفس کے خلاف ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک آپ ان کو خود اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں کر لیتے وہ سوسائٹی کا ایک معزز جزو نہیں بن سکتے۔آپ کے نزدیک معزز ہو بھی جائیں تو ان کا اپنا ضمیر ان کو ہمیشہ ملامت کرتا رہے گا۔اس لئے ان کے وقار اور ان کی عزت نفس کی حفاظت کی خاطر کوشش کریں کہ وہ کسی رنگ میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں لیکن اس رنگ میں کوشش نہ کریں کہ خود تو کھڑے نہ ہو سکیں ، آپ کو بھی لے ڈو میں اور آپ کو بھی اس حال کو پہنچا دیں جس حال کو وہ بدنصیب آپ پہنچے ہوئے ہیں۔پس ان تمام