خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 265

خطبات طاہر جلد 13 265 خطبه جمعه فرموده 8 راپریل 1994ء باتوں کو پیش نظر رکھ کر جس حد تک ممکن ہے حضرت اقدس حمد مصطفی ﷺ کی اس نصیحت پر عمل کرنے کی کوشش کریں کہ آپ اپنے بے یارو مددگار بھائی کو بے یارو مددگار نہ چھوڑ ہیں۔پھر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ”جو شخص اپنے بھائی کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کا خیال رکھتا ہے۔اور یہ بھی ایک ایسا ارشاد ہے جو سو فیصدی قطعیت کے ساتھ تجربے میں درست دکھائی دیتا ہے۔اگر کوئی شخص محض اپنی ضروریات کی تکلیف میں مبتلا رہتا ہے اور ہر وقت اس کے ذہن پر یہ دباؤ ہے کہ میری فلاں ضرورت پوری نہیں ہوئی، فلاں ضرورت پوری نہیں ہوئی، وہ خود بھی دعائیں کرتا ہے نیک ہونے کی وجہ سے، اور بسا اوقات مجھے بھی دعاؤں کے لئے لکھتا ہے، اور اس کی تمام شخصیت کھل کر میری آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے کیونکہ اس کا فکر اس کا ہم وغم صرف اپنی ذات کے لئے ہے۔ایک اور قسم کا احمدی بھی ہے جو اپنے لئے بھی دعا کے لئے لکھتا ہے، اپنے بعض دوسرے مجبور بھائیوں کے لئے بھی دعا کے لئے لکھتا ہے اور فکر کرتا ہے کہ اس کو یہ تکلیف ہے، اس کو یہ تکلیف ہے اس کے لئے بھی دعا کریں، اس کے لئے بھی دعا کریں۔اس کی شخصیت بھی کھل کر میرے سامنے آ جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی غلامی کے دائرے میں شمار ہونے کے زیادہ لائق ہے کیونکہ وہ دوسروں کی فکر میں رہتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو پھر اس فکر کو بھی بڑھا کر دین کی فکر کو اتنا اپنے اوپر غالب کر لیتے ہیں کہ بعض دفعہ ان کے خطوں میں کسی اپنی ذاتی کسی دوست کی ضرورت کا بھی کوئی ذکر نہیں ملتا۔ہر وقت یہ فکر ہے کہ دین کی یہ ضرورت پوری ہو، دین کی وہ ضرورت پوری ہو ، جماعت کی تربیت میں کمزوری ہے، اللہ تعالیٰ توفیق بخشے کہ ہم اس کمزوری کو دور کر سکیں تبلیغ میں یہ کمزوری ہے اور دیگر مسائل جماعت کے یہ ہیں پس ایسے لوگوں کے خط ان مشکلات کے ذکر سے بھر پور ہوتے ہیں جو ان کی ذات سے تعلق نہیں رکھتیں۔ایسے لوگ کیا گھاٹا کھانے والے ہیں؟ کیا ان کا سودا نقصان کا سودا ہے؟ جن کو اپنی ہوش نہیں باقی ہر چیز کی گویا ہوش ہے۔اپنے بھائیوں کی ہے، دین کے کاموں کی ہے، دین پر پڑنے والی مصیبتوں کی ہے، گویا اپنی ذات پر، اپنے عزیزوں پر مصیبت ہی کوئی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ گھاٹا کھانے والے نہیں ہیں کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف اور بے چینی دور کرتا ہے بلکہ جو شخص اپنے بھائی کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے یہاں سے بات شروع فرمائی ہے،