خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 263 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 263

خطبات طاہر جلد 13 263 خطبہ جمعہ فرمود و 8 را پریل 1994ء نہیں کہ آپ کو شدید نقصان پہنچادیں۔بعض لوگوں کو آرام سے زندگی بسر کرنے کی عادت ہو چکی ہوتی ہے۔قرض لے کر وہ بے تکلفی سے کھاتے ہیں اور ان کو احساس نہیں ہوتا کہ جس بھائی سے قرض لیا ہے اس کی بھی ضرورتیں ہیں۔بعض تو بے حد مجبور ہیں، معمولی ضرورت کا قرض لیتے ہیں اور بے اختیار ہیں کہ واپس نہیں کر سکتے۔ایسے بھائیوں کا فرض ہے جنہوں نے ان کو قرض دیا ہو کہ حتی المقدور ان سے نرمی کریں اور کوشش کریں کہ وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ان کے بوجھ اتارسکیں، ان کے قرض اتار سکیں۔لیکن اگر نہیں، تو معاف کرنے کا بھی سوچیں۔لیکن یہ اور طبقہ ہے۔ایک ایسا طبقہ ہے جس کا ہاتھ قرض میں کھلا ہوتا ہے اس کی روز مرہ کی زندگی کی ضرورت جس قناعت کے طریق سے پوری ہو سکتی ہے وہ نہیں پورا کرتے۔وہ ایسا کھلا ہاتھ رکھتے ہیں جس کا خدا تعالیٰ نے ان کو حق نہیں دیا ہوا۔ان کی معاشی حالت کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ ہاتھ روک کر جنگی ترشی کے ساتھ گزارہ کریں، اپنے بچوں کا خیال رکھیں ، اپنے مستقبل بنانے کی کوشش کریں۔اس کی بجائے وہ کھلے ہاتھ خرچ کر کے یوں لگتا ہے جیسے بہت امیر کبیر لوگ ہیں ایسے لوگ تجارت کے لائق نہیں ہوتے۔ایسے لوگوں کی جب تک اصلاح نہ کی جائے اس وقت تک اگر ان کو تجارتوں میں آپ شامل کریں گے تو یہ آپ کو بھی نقصان پہنچائیں گے اور اپنے آپ کو بھی مزید نقصان پہنچائیں گے اس لئے جو کھلے دل کے تاجر ہیں ان کو یہ احتیاط لازم ہے کہ اگر کسی بھائی کی مددکریں تو اس کی اخلاقی قدروں پر نظر ڈالیں۔اس کی صلاحیتوں پر نظر ڈالیں اور اس ضمن میں قرآن کریم کا ایک راہنما اصول ہمارے سامنے رہنا چاہئے۔قرآن کریم نے جہاں یتامی کی خبر گیری کی تعلیم دی ہے وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر ایسے بتائی ہوں جن کا مال بحیثیت قوم کے تمہارے سپرد ہو یعنی ان کے ماں باپ فوت ہو چکے ہیں، وہ چھوٹی عمر کے ہیں اور ان کے اموال ہیں جو قوم کے قبضے میں ہیں یعنی قوم کی طرف سے جو بھی نگران مقرر کئے گئے ہیں ان کے قبضے میں ہیں فرمایا وہ مال ان کو اس وقت تک نہیں لوٹا نا جب تک ان میں رشد کے آثار نہ دیکھو، جب تک انہیں یہ سلیقہ نہ آجائے کہ خود اپنے مال کی کیسے حفاظت کی جاتی ہے۔بہت ہی عظیم الشان گہرا اقتصادی بقا کا اصول ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔مراد یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ مال ان کا ہے وہ کہہ سکتے ہیں تم کون ہوتے ہو ہمارے مال پر تسلط سے ہمیں روکنے والے۔فرمایا کہ تم ان کو کہہ سکتے ہو کہ ہم تو کچھ نہیں لیکن ہمارا خدا تمہیں اس تصرف سے اس لئے روکتا ہے کہ تم اس بات کے اہل