خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 259

خطبات طاہر جلد 13 259 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 اپریل 1994ء والی جماعت اگر ہے تو وہ عالمگیر جماعت احمدیہ ہے کیونکہ یہ نشانی جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنے غلاموں کی اور سچے مومنوں کی بیان فرمائی ہے یہ آج جماعت احمدیہ کے سوا دنیا کی کسی اور جماعت پر اس طرح چسپاں نہیں ہوتی۔بوسنیا کے مظلوموں کا جیسا غم جماعت احمدیہ نے کیا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ یہ اندرونی تربیت اس پختگی کو پہنچ چکی ہے کہ جماعت کے دائرے سے چھلک کر عام مسلمانان عالم کی ہمدردی میں تبدیل ہو چکی ہے اور یہی وہ رخ ہے جس کی طرف جماعت کو میں بہت کوشش کے ساتھ دن بدن آگے بڑھا رہا ہوں تا کہ یہ چار مقاصد جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے ہیں، یہ پورے ہوں تو ہم اس بات کے لئے پوری طرح مستعد اور تیار ہو جائیں گے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا فیض آج ہمارے ہاتھوں تمام دنیا میں بانٹا جائے اور تمام دنیا کو ہم ایک امت واحدہ میں تبدیل کر دیں، اور یہ ضروری تھا کہ ہم پہلے خود ایک ہو جاتے اور مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ آثار ظاہر ہو چکے ہیں کہ ہم ایک امت واحدہ بن چکے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ وہ گہری ہمدردی رکھتے ہیں صلى الله جس کا ذکر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا۔ایک اور حدیث ہے جو بخاری کتاب المظالم باب لا يظلم المسلم المسلم سے لی گئی ہے۔حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے۔یعنی اس کی مدد کے لئے ہمیشہ تیاررہتا ہے۔جو شخص اپنے بھائی کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت کا خیال رکھتا ہے۔جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف اور بے چینی کو دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف اور بے چینی کو دور کرتا ہے۔جو شخص کسی کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن پر وہ پوشی فرمائے گا۔( بخاری کتاب المظالم حدیث نمبر : 2262) یہ حدیث ترتیب میں پہلی حدیث کے بعد ہی آنی چاہئے تھی اور اس کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔وہ شخص جو خود تکلیف میں مبتلا ہو وہ چین پاہی نہیں سکتا جب تک اس تکلیف کو دور نہ کرے اور کوئی شخص اپنے وجود کے کسی حصے پر خود ظلم نہیں کر سکتا۔اس کے لئے بہت مشکل ہے کہ بعض دفعہ ضرورت کے وقت بھی اپنے جسم کو تکلیف پہنچائے۔اگر کانٹا نکالنا ہو اور اس کے لئے سوئی چھوٹی پڑے تو آپ