خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 258
خطبات طاہر جلد 13 258 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 اپریل 1994 ء مسلمانوں کی اجتماعی شکل کے اوپر چسپاں ہونے والی نہیں دی جاسکتی۔اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا جماعت احمد یہ عالمگیر پر ایک احسان ہے اور اس احسان میں وہ تمام دنیا کی دوسری جماعتوں سے ممتاز ہے اور وہ لوگ جو فراست رکھتے ہیں ان کے لئے حق کی پہچان کے لئے ایک بڑی دلیل ہے کہ اگر پاکستان میں کسی ایک جگہ بھی کسی احمدی پر ظلم ہوتا ہے تو تمام دنیا کی جماعتوں میں بے چینی پھیل جاتی ہے۔افریقہ کی ایسی دور دراز جماعتیں جہاں جدید ذرائع کی سہولتیں بھی نہیں پہنچیں نہ سڑکیں ہیں، نہ تار ہے، نہ ٹیلیفون ہے، نہ دیگر آرام ہیں۔جنگل کی بے آرامی میں وہ لوگ زندگی بسر کرتے ہیں مگر جب ان کو یہ اطلاع ملتی ہے کہ ہمارے بھائیوں میں سے کسی پر کسی ملک میں کہیں ظلم ہوا ہے تو شدید بے چین ہو جاتے ہیں اور پھر ان کی طرف سے مجھے خط آنے لگتے ہیں، مجھ سے ہمدردیاں کرتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں۔کہتے ہیں اللہ کرے کہ جلد جماعت کے ان مظلوموں کی تکلیف دور ہو۔جب کسی تکلیف کے دور ہونے کی خبر ملتی ہے تو بجلی کی لہروں کی طرح خوشیوں کی ایک برقی روسی دوڑ جاتی ہے اور ہر طرف سے ایک مسرت کا احساس ہونے کی اطلاعیں بھی ملنے لگتی ہیں۔چنانچہ ہمارے اسیرانِ راہِ مولا جب آزاد ہوئے ہیں تو میں نے تو شروع میں اشارہ ہی ٹیلی ویژن پر اس کا اعلان کیا تھا مگر جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے فر است عطا فرمائی ہے وہ خاص انداز کو دیکھ کر سمجھ گئے کہ یہی خوشخبری ہوگی کہ جماعت احمدیہ کے پرانے اسیر آزاد ہوئے۔اس کا دکھ ان کو زیادہ تھا اور یہ ان کا دریافت کر لینا اس پہلی بات پر بھی روشنی ڈال رہا ہے کہ ان کو گہری محبت تھی ، گہرا تعلق تھا، اس غم میں مبتلا رہتے تھے۔جب دیکھا کہ میں نے کہا کہ ایک بہت بڑی خوشخبری میں جماعت کو دینے والا ہوں تو انہوں نے یقین کر لیا کہ یہ وہی خوشخبری ہوگی اور پھر اس پر ایسی مسرت کا اظہار کیا۔لیا ہے کہ اپنے قریبیوں، عزیزوں، رشتے داروں کی بعض خوشیوں پر بھی اس طرح عالمگیر مسرت کا اظہار نہیں ہوا، نہ ہو سکتا ہے بلکہ چھوٹے گاؤں میں بھی خوشیاں جب پہنچتی ہیں تو اس قدر مسرت نہیں ہوتی۔بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ہم نے تو عیدیں منائی ہیں آپ تو کہتے تھے کہ عید کے بعد ایک عید بعد میں آئے گی دو مہینے دس دن کے بعد۔ہم نے تو یہ عید دیکھ لی اور عید پر عید یہ ہر روز عید بن چکی ہے۔ایسا نشہ ہے اس خوشی کا کہ بچے بڑے سب اس میں مگن ہیں۔ایک مستی کا عالم طاری ہے۔پس یہ ثبوت ہے کہ آج حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سچی غلام آپ کی طرف منسوب ہونے کا حق رکھنے