خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 260

خطبات طاہر جلد 13 260 خطبه جمعه فرموده 8 را پریل 1994ء الله اندازہ لگا سکتے ہیں اور اکثر ہم میں سے جانتے ہیں کہ انسان کتنی کتنی احتیاطوں سے اس سوئی کی نوک کو زخم کے منہ میں داخل کرتا ہے تا کہ کانٹا اس کی نوک پر آ جائے اور بغیر تکلیف کے وہ باہر نکل آئے اور ذراسی بے احتیاطی ہو تو انسان تڑپ اٹھتا ہے۔پس مومن کو جب یہ ذاتی تجربہ حاصل ہو گیا اور تمام مسلمانوں کی جماعت کی مثال ایک مومن کی ذات سے دے دی گئی تو اس کا طبعی نتیجہ یہ ہے کہ دوسرے مومن پر انسان ظلم کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔جیسے اپنے بدن کو انسان تکلیف نہیں پہنچا سکتا اسی طرح اپنے بھائی کو اگر وہ تکلیف پہنچائے تو وہ سچا مومن نہیں ہوسکتا۔وہ اس مثال کی حدوں سے باہر جا پڑے گا جو مثال حضرت محمد مصطفی علیہ نے مومنوں کی جماعت یعنی اپنے بچے حقیقی غلاموں کی صلى جماعت کے متعلق دی ہے۔پس یاد رکھیں اول تو یہ توقع ہے، یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو آپ سے توقع ہے کہ آپ اپنے کسی بھائی کو کسی نوع کا دکھ نہیں پہنچا ئیں گے۔” پہنچا ئیں گے“ کی نصیحت میں ایک اور بات ہے ، آپ کو یہ توقع ہے کہ پہنچا سکتے نہیں ہیں کیونکہ اس معاملے میں آپ بے اختیار ہیں۔ہر بھائی آپ کے بدن کا جزو بن چکا ہے جو تکلیف آپ اس کو پہنچائیں گے وہ آپ کو محسوس ہوگی اور جو تکلیف مجبوراً پہنچانی پڑے وہ ضرور محسوس ہوتی ہے۔مثلا بعض دفعہ انگلی کاٹنی پڑتی ہے اور میں ذاتی تجربے سے اس بات کا گواہ ہوں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا یہ قول سو فیصد بعینہ سچا ہے کیونکہ بعض دفعہ جب ایسی کارروائی کرنی پڑے کہ ایک شخص کو اس کے مسلسل ظلم کی وجہ سے جماعت سے کاٹ کر الگ پھینکنا پڑے تو اسی طرح تکلیف پہنچتی ہے جیسے اپنے بدن کے کسی عضو کو کاٹ کر باہر پھینکنا پڑے۔پس یہ وہ مثال ہے جو آپ کے اوپر کامل طور پر صادق آنی چاہئے اور پہلی توقع یہ ہے کہ آپ اپنے بھائی پر ظلم کر ہی نہیں سکتے کیونکہ وہ تو آپ کا جزو بدن بن چکا ہے۔دوسری یہ کہ اگر وہ تکلیف میں مبتلا ہو تو اس سے بے نیاز ہو کر آرام نہیں کر سکتے۔جہاں جو تکلیف آپ کے سامنے آئے اور دور کرنے کے لحاظ سے آپ کی حد میں ہو، آپ کی پہنچ میں ہو، آپ ضرور کوشش کریں اور اس پہلو سے بھی میں بہت مطمئن ہوں۔اگر چہ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جماعت میں جو ظلم کرتے ہیں اور دوسروں کے حق بھی چھینتے ہیں، اگر چہ ایسے لوگ بھی ہیں جو تکلیف دور کرنے کی بجائے تکلیف پہنچانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں، ان کے شر سے جماعت محفوظ نہیں رہتی مگر ایسے لوگ وہ ہیں جن کو رفتہ رفتہ تقدیر الہی نتھار کر ایک طرف کرتی چلی جارہی ہے اور رفتہ رفتہ وہ ننگے ہو کر جب سامنے آتے ہیں تو وہ آپریشن کرنا پڑتا ہے جس کا میں نے