خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 250

خطبات طاہر جلد 13 250 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء حضرت خبیب کا ذکر بار ہا آپ سن چکے ہیں مگر ایسا ذکر ہے جو کبھی پرانا نہیں ہوسکتا۔آ۔نے جب جان دی، ایسی حالت میں کہ دشمن نے آپ کو گھیرے میں لے کر پکڑ لیا تھا اور مقتل کی طرف لے جارہے تھے۔اس وقت مقتل میں پہنچ کر انہوں نے کہا کہ مجھے اجازت دو کہ میں دورکعتیں نماز پڑھ لوں۔ذکر الہی تو کر ہی رہے تھے ہر وقت ذکر کرتے رہتے تھے نماز کی اہمیت کا یہ حال تھا کہ صحابہ سب سے زیادہ پاکیزہ ، سب سے بلند تر ذکر نماز ہی کو سمجھتے تھے تو انہوں نے دورکعتیں نماز ادا کی۔سلام پھیرا اور کہا دل نہیں چاہتا تھا کہ اس نماز سے الگ ہو جاؤں مگر ڈرتا تھا کہ تم مجھے بزدل نہ سمجھ لو۔یہ نہ سمجھ لو کہ میں شہادت سے ڈر رہا ہوں اس لئے جلدی میں یہ رکعتیں ادا کر دی ہیں، اب جو چاہو کرو اور جب ان کو نیزہ مارا گیا تو وہ شعر پڑھتے ہوئے زمین پر گرے۔وَلَسْتُ أَبَالِي حِيْنَ أَقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِى وَذَالِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَّشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوِ مُّمَزَّع کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ خدا کی راہ میں کس کروٹ پر قتل ہو کے گرتا ہوں۔وَذَالِكَ فِی ذَاتِ الْإِلهِ “یہ تو اللہ کی خاطر ہے اور اگر وہ چاہے تو میرے جسم کے چھوٹے سے چھوٹے ٹکڑوں پر، جو پارہ پارہ کر دیا گیا ہو، ہر جسم کے حصے پر برکتیں نازل فرمائے یہ آخری آواز تھی جو شہادت کے وقت ان کے منہ سے نکلی ہے اور یہی ذکر اللہ کرنے والوں کے دل کی آواز بن جایا کرتی ہے۔ان کی زندگی بھی زندگی ہو جاتی ہے ، ان کی موت بھی زندگی ہو جاتی ہے، ان کوکوئی پرواہ نہیں رہتی کہ کس طرح کس حالت میں ان کا انجام ہو۔جانتے ہیں کہ اللہ اپنے ذکر کرنے والوں کے جسم کے ذرے ذرے پر برکتیں نازل فرماتا ہے اور اس کی روح ہمیشہ کے لئے خدا کی پناہ میں آ جاتی ہے اور اس کا ذکر ہمیشہ کے لئے اس کے اوپر اپنی رحمت کی چادرتان دیتا ہے خواہ وہ اس دنیا میں رہے خواہ وہ اس دنیا سے چلا جائے۔پس اس پہلو سے اس رنگ میں ذکر کریں کہ آپ کے ساتھ تمام دنیا کا ذکر وابستہ ہو جائے۔تمام خدا کے بندے اور مخلوق جو آج ہیں یا کل آنے والی ہیں وہ آپ سے ذکر کے آداب سیکھیں کیونکہ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے حضرت محمد مصطفی ﷺ کی حقیقی سنت کو دوبارہ زندہ کرنے کے عزم کر لئے ہیں وہی ذکر آپ زندہ کریں گے جو حمد مصطفی ﷺ کا ذکر ہے کسی پیر فقیر کے ذکر کو آپ دنیا میں جاری نہیں کریں گے۔پس آج دنیا محتاج ہے کہ آپ ہی سے