خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 249
خطبات طاہر جلد 13 249 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء اَشْكُوا بَى وَحُزْنِی إِلَى اللهِ کہ میں تو اپنے اللہ ہی کے سامنے اپنے سارے دکھ رویا کروں گا کسی اور کے سامنے مجھے ضرورت نہیں ہے۔پس جو ذکر الہی میں گم رہتے ہیں ان کو خدا کے سوا کسی اور کا در بار ملتا ہی نہیں۔جہاں وہ اپنے غم اور دکھ روئیں اور اپنے سینوں کے بوجھ ہلکے کریں۔فرماتے ہیں پچھلی صف میں تھا وہاں تک مجھے حضرت عمرؓ کے سینے کے گڑ گڑانے کی آواز آ رہی تھا۔حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ بنو سلمہ کا محلہ مسجد نبوی سے دور تھا لیکن وہ مدینے کے کنارے پر تھے اس وجہ سے مدینے کی حفاظت میں وہ ایک اہم کردار ادا کر رہے تھے۔انہوں نے شوق ظاہر کیا کہ وہ مسجد نبوی کے قریب آجائیں تو آنحضرت ﷺ نے ان کو اجازت نہیں دی لیکن ان کی نیت اچھی اور پاک تھی وہ قریب آنا چاہتے تھے تا کہ زیادہ ذکر الہی کا موقع ملے اور ذکر الہی میں اول اور افضل حیثیت نماز با جماعت کی تھی جو مسجد نبوی میں ادا کی جاتی تھی۔تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دلداری کے لئے یہ انتظام فرمایا کہ حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تم وہیں رہو جس نیک نیت سے تم قریب آنا چاہتے ہو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تمہارے ہر قدم پر تمہیں اجر عطا کرے گا۔جتنے لمبے فاصلے کرو گے اتنا ہی وہ ذکر الہی میں شمار ہوں گے اور ہر قدم کا اجر تمہارے لئے لکھ دیا جائے گا۔حضرت حرام بن ملحان کے آخری کلمات بھی سننے کے لائق ہیں جب ان پر بر چھے کا وار پڑا ہے اور وہ آر پار نکل گیا اس حالت میں حضرت حرام نے زخم کا خون لے کر سامنے سے اپنے چہرے پر ملا اور سر پر چھڑ کا۔وہ خون جو اندر دوڑ رہا تھا چونکہ خدا کی خاطر باہر نکلا تھا انہوں نے کہا اب مقدس ہو چکا ہے اب اس کی برکت سے جسم کے باقی اعضاء کو بھی متبرک کر دوں اور یہ کہا ”اللہ اکبر فزت و رب الکعبہ۔اللہ اکبر رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ہوں۔(بخاری کتاب المغازی) یہی روایت حضرت عامر بن فهيرة کے متعلق ملتی ہے کہ آخری کلمہ آپ کا بھی یہی تھا۔صاحب طبقات بیان کرتے ہیں کہ حضرت زید بن خطاب جو حضرت عمر کے بھائی تھے ایک جنگ میں ان کے سپر د علم کیا گیا ( یہ جنگ یمامہ کی بات ہو رہی ہے ) وہاں اس قدر زور سے دشمن نے ہلہ بولا کہ صحابہ کے پاؤں اکھڑ گئے۔کچھ ڈول گئے اس وقت اس حالت میں بڑے جوش کے ساتھ یہ بھاگتے ہوئے دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور وہ آخری کلمات جوان کے سنائی دیئے وہ یہ تھے خدایا! میں اپنے ساتھیوں کی پسپائی پر تیری بارگاہ میں معذرت پیش کرتا ہوں۔