خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 251

خطبات طاہر جلد 13 251 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء ذکر سیکھے اور آئندہ نسلیں بھی اسی کے ذکر کو لے کر آگے بڑھتی چلی جائیں۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔یہ وہ آب حیات ہے جس آب حیات کے بعد کسی ہلاکت کے زہر کو مجال نہیں ہے کہ آپ کی رگ و پے میں دوڑ نے لگے، آپ کے رگ وریشے میں پیوستہ ہو کر آپ کو ہلاک کر سکے۔زندگی کی ایک ہی راہ ہے وہ ذکر الہی کی راہ ہے۔وہ راہ ہے جو میں نے آپ کو دکھادی، اللہ ہمیں تو فیق عطا فرمائے۔آمین جو بوسنین خصوصیت کے ساتھ جماعت میں داخل ہورہے ہیں ان کے متعلق ایک چھوٹی سی بات کہہ کر میں اجازت چاہتا ہوں کہ ان بوسنین کو ذکر الہی کے ساتھ فورا وابستہ کر دیں۔کوئی اور تربیت نہیں ہے جو ان کی زندگی کی ضمانت دے سکے یعنی روحانی زندگی کی جو ان کو آئندہ ہلاکت سے بچا سکے۔صرف یہ راہ ہے کہ جس کے بندے ہیں اس کے ہاتھ میں ہاتھ تھما دیں۔اللہ کی انگلی میں ان کی انگلیاں پکڑا دیں۔خدا سے وابستہ کر دیں پھر آپ کو کوئی پرواہ نہیں ہے پھر اللہ آپ ہی ان کی حفاظت کرے گا۔پس ذکر الہی کی عادت ڈالیں اور ذکر الہی کا چسکا ان کے دلوں میں پیدا کر دیں۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو، السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔خطبہ ثانیہ سے قبل حضور نے فرمایا:۔آج تو ما شاء اللہ یہ مسجد بہت بھر گئی ہے اور عورتوں کو اب دوسری جگہ بھیج دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا ہے کہ مسجد جو بھری ہوئی ہے اللہ کے فضل سے یہ بوسنین کے بغیر بھری ہوئی ہے ان کی اتنی تعداد ہے خدا کے فضل سے وہ اس مسجد میں سماہی نہیں سکتے تھے اس لئے ان کے لئے الگ انتظام کیا گیا ہے تا کہ وہاں ان کا ترجمہ بھی ان کو اونچی آواز میں سنایا جا سکے یہ اس لئے بتا دیا ہے کہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا گیا ہے ان کے لئے الگ اکٹھا انتظام کیا ہے اس لئے کہ ایسا کوئی انتظام نہیں تھا کہ بجلی کی تاروں کے ذریعے ان کے کانوں تک ترجمہ پہنچایا جا سکتا ہو۔اس لئے بے اختیاری تھی اس لئے ان کو الگ رکھا گیا ہے ورنہ ان کو یہاں جگہ دی جاتی اور پرانے احمدی دوسرے کمروں میں جاتے۔یہ وضاحت کر دی ہے دنیا میں سب دیکھ رہے ہیں کہیں کوئی سنے والا غلط فہمی کا شکار ہی نہ ہو جائے۔“