خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 239

خطبات طاہر جلد 13 239 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء کی بجائے سخت ہوتے چلے جاتے ہیں۔طبیعت ان کی گھبراتی ہے، کہتے ہیں کیا بات لے بیٹھے ہیں۔چھوڑ وکوئی اور بات کرو، خدا کی باتیں بھی اس زمانے میں بھلا چل سکتی ہیں، کوئی دلچسپی کی بات کرو۔کوئی نشے کی بات کرو، کچھ کھیلنے کودنے کی بات کرو، کچھ نمائشوں کے قصے چلیں۔دنیا کی لذتوں کی باتیں ہوں تو بات بھی بنے ، یہ خدا کی باتیں تم کیا لے بیٹھے ہو۔ایسے لوگ ہیں جو جب یہ ذکر سنتے ہیں ذکر الہی کا، تو ان کے دل سخت ہوتے چلے جاتے ہیں پتھر بنتے جاتے ہیں اور ایک وہ ہیں لِلْقَسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللهِ کہ وہ بدنصیب ایسے پتھر ہیں کہ اللہ کے ذکر کی ان میں صلاحیت ہی باقی نہیں رہی۔وہ ذکر کرنے سے عاری لوگ ہیں۔ایک سنتے ہیں اور بدکتے ہیں اور مزید سخت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ایک وہ جو سخت ہو چکے ہیں اور ذکر اللہ کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں ہے۔ان دونوں معنوں میں آیت ایسے لوگوں پر لعنت بھیج رہی ہے اور ان کی ہلاکت کی خبر دے رہی ہے۔أُولَبِكَ فِي ضَلالٍ مُّبِيْنٍ ہی وہ لوگ ہیں جو کھلی کھلی گمراہی میں ہیں۔اب یا درکھیں کہ جو لوگ ذکر الہی سے غافل رہتے ہیں ان کی یہی منزل ہے جو بیان کی گئی ہے کوئی شخص جو ذکر الہی کی راہ میں آگے نہیں بڑھ رہا وہ اپنے مقام پر کھڑا نہیں رہا کرتا۔وہ رفتہ رفتہ ان لوگوں میں شامل ہورہا ہوتا ہے جن کے دل خدا کے لئے سخت ہو چکے ہیں اور ایسا شخص جو ذکر الہی میں لذت نہیں پاتا اس کے دل کو کوئی اور چیز سنبھال نہیں سکتی کیونکہ وہ لذت کے بغیر اپنے دل کو چھوڑ نہیں سکتا اس لئے خدا کی بجائے دنیا کی لذتیں دن بدن، رفتہ رفتہ اس کے دل پر قابض ہوتی چلی جاتی ہیں۔پس یہ بہت ہی خطرناک مقام ہے۔سمجھنا چاہئے بیچ کی کوئی راہ نہیں ہے، یہ نہیں کہ ذکر الہی نہ بھی کرو تو گزارہ ہو جائے گا، کم سے کم ہم سخت دل تو نہیں ہیں۔فرمایا یہ ذکر کرنے والے ہیں یا سخت دل ہیں بیچ میں تو کوئی وجودہی اور نہیں ہے۔جو ذکر نہیں کرے گا اس نے لا زما سخت دل ہو جانا ہے۔پس اس کے خلاف بہ کی گئی ہے۔پھر اللہ فرماتا ہے: اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتْبًا مُّتَشَابِهَا مَّثَانِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ اللَّهُ بِے نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ صلى الله جس نے محمد مصطفی ﷺ پر سب باتوں سے زیادہ پیاری بات اتاری ہے۔جو کلام اس رسول کے دل پر اترا ہے ہر کلام سے زیادہ خوب صورت ہے۔یہ کیا کلام ہے؟ فرماتا ہے کتبا یہ لکھا ہوا کلام ہے جسے تم کتاب کی صورت میں دیکھتے ہو اور یہ باتیں کیسی ہیں۔مُتَشَابِهًا مَّثَانِيَ ایک دوسرے سے تنبیه