خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 240

خطبات طاہر جلد 13 240 خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1994ء اپنے حسن میں ملتی جلتی باتیں بھی ہیں اور ایسی بھی ہیں کہ ویسی ہی باتیں اس کتاب میں اور بھی دیکھتے ہو یعنی متشابہ آیات ہیں اور بہت خوبصورت ہیں اور جوڑے جوڑے ہیں۔ایک حسن تم یہاں دیکھتے ہو اس حسن سے ملتا جلتا ایک اور جوڑا بھی تمہیں دوسری طرف دکھائی دے گا اور قرآن کریم کو پڑھنے والے جانتے ہیں، ہر انسان جو محبت اور تعلق سے قرآن کو پڑھتا ہے اس بات پر گواہ ہے کہ ہر قرآنی مضمون جو خوبصورتی کے ساتھ بیان ہوا ہے وہی مضمون ایک اور آیت میں بھی اسی طرح خوبصورتی کے ساتھ بیان ہوا ہے۔لیکن ملتی جلتی ہیں بعینہ وہ بات نہیں۔کوئی فرق ہے جو یہاں نہیں ملتا وہاں مل جائے گا۔کوئی چیز وہاں نہیں ملی تو پہلی میں مل جائے گی۔تو جوڑے جوڑے چلتے ہیں ایک دوسرے کو تقویت بھی دیتے ہیں اور حسن کے بعض پہلوؤں پر ایک آیت بڑی نمایاں روشنی ڈال رہی ہے۔بعض دوسرے پہلوؤں پر ایک اور آیت بڑی نمایاں روشنی ڈال رہی ہے تو فرمایا اس میں مثانی کا ایک معنی ہیں بہت اعلیٰ درجہ کی ، بہت ہی بلند مرتبہ۔تو یہ تعریف بھی اس کے ساتھ ہی اس کی ہوگئی۔فرمایا اس سے ہوتا کیا ہے۔تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ - وج ان سے ان آیات کے نتیجہ میں جو جوڑا جوڑا ہیں دہرے اثر دکھانے والی آیات ہیں ایک اثر تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سننے والے جو خدا سے ڈرتے ہیں ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔جُلُودُ کے تَقْشَعِر کا مطلب ہے کہ ان کی جلدیں متحرک ہو جاتی ہیں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ان میں ایک Creeping Movement جس طرح ایک لہر سی دوڑ رہی ہے ایسی لہریں ان کی جلدوں پر دوڑنے لگتی ہیں۔ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ یہ جوڑا جوڑا آیات ایک اور اثر بھی لاتی ہیں۔ایک طرف خشیت کا یہ عالم ہے کہ ساری جلد پر جھر جھری پیدا ہو جاتی ہے اور رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔دوسری طرف اس کے بعد وہ جلدیں پگھل جاتی ہیں، نرم پڑ جاتی ہیں ، اپنے خدا کے حضور پکھل کر بہنے لگتی ہیں اور دل ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔جُلُودُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ان کی جلدیں بھی اور ان کے دل بھی خدا کے ذکر میں بہنے لگتے ہیں، ان کی طرف متحرک ہو جاتے ہیں۔کتنا حسین کلام ہے۔اثر باہر سے اندر داخل ہوتا ہے اور وہ لوگ جو سخت دل ہیں ان کی جلد میں بھی سخت ہوتی ہیں وہ اچھی بات کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔وہ جلدیں ہی باہر باہر اچھے پیغام کو روک دیتی ہیں۔لیکن یہ خدا کے مومن بندے ایسے ہیں جو خدا کے کلام کو سنتے ہیں تو پہلے تو ان