خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 208

خطبات طاہر جلد 13 208 خطبه جمعه فرموده 18 / مارچ 1994ء اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت رب ہے کیونکہ اس لئے اس کی طرف اشارہ صفت ربوبیت سے کیا گیا ہے۔رب کا معنی سارے جانتے ہیں پالنہار، سب کا خیال رکھنے والا ، رزق عطا کرنے والا۔فرمایا اس کی ربوبیت جو تامہ ہو وہ کیا کرے عبودیت خالصہ کے جوڑ سے پیدا ہوتی ہے۔کیا چیز؟ روح القدس، اب روح القدس کا نام آپ نے سنا ہوا ہے ایک فرشتہ جو جبرائیل کہلاتا ہے، حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی کہتے ہیں۔روح القدس کے نام سے دماغ اس طرف چلا جاتا ہے۔لیکن ایک روح القدس ہے جو دل سے پیدا ہوتی ہے وہ کیسے پیدا ہوتی ہے فرمایا ہے وہ ربوبیت تامہ اور عبودیت خالصہ کے جوڑ سے پیدا ہوتی ہے اور روح خبیث کی تخفیف سے ان کی نجات چاہئیں یہ میری طلب ہے یہ میری مراد ہے یہ ہی میری زندگی کا مقصد ہے۔اب بتائیے پھر بھی کیا سمجھے ہیں۔غور کریں تو اکثر لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی کہ کیسے ہوگی۔یہ ربوبیت کیا ہے اور ر بوبیت تامہ کیا چیز ہے اور پھر عبودیت خالصہ کیا چیز ہے؟ بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہر لفظ کا اشارہ قرآن کریم کی طرف ہوتا ہے اور ان تفاسیر کی طرف ہوتا ہے جو حضرت محمدمصطفی ہے نے فرمائیں آپ کا سارا کلام بھی قرآن ہی ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو مطالب بیان فرمائے ہیں ان کی جڑیں قرآن میں تلاش کرو تو سمجھ آئے گی اور نہ نہیں سمجھ آئے گی۔اس مضمون کا سورۃ فاتحہ سے تعلق ہے رَبِّ الْعَلَمِینَ کا ایک عام تصور ہے لیکن اس کا تامہ تصور یہ ہے الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ وہ رب جو تمام جہانوں کا رب ہے صرف یہ کافی نہیں ہے اس کی نامہ سمجھ یعنی مکمل سمجھ تب آتی ہے جب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ رب جو تمام جہانوں کا رب ہے وہ رب رحمن بھی ہے وہ رحیم بھی ہے اور مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ بھی ہے۔ہر انجام کا مالک ہے جو تمام انجام اس کے قبضے قدرت میں ہیں۔آغاز بھی اس سے ہوا ہے اور انجام بھی اس کی طاقت اور اس کی فیصلے کے بغیر ممکن نہیں اور ان دونوں کے درمیان جو رب ہمیں ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف حرکت کر کے لے جا رہے ہیں۔اس کی صفات ہیں رحمان بہت ہے بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔ہماری غفلتوں سے بار بار درگزر فرماتا ہے اور رحیم ہے جو بار بار فضل لے کر آتا ہے، بار بار رحمتیں عطا کرتا ہے یہ رحمت تامہ ہے عبود یتخالصہ کیا ہوئی؟ اِيَّاكَ نَعْبُدُ اے ہمارے رب صرف تجھ کو چاہتے ہیں خالص کا مطلب ہے جو اور کسی کی نہ ہو صرف ایک کی ہی ہو جائے۔فرمایا