خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 207
خطبات طاہر جلد 13 207 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 / مارچ 1994ء لئے بے انتہا دل میں ایک ہمدردی کا جوش بخشا ہے تا میں ان طالبوں کی تربیت باطنی میں مصروف ہو جاؤں اور ان کی آلودگی کے ازالہ کے لئے دن رات کوشش کرتا رہوں۔“ ان کو جو کچھ بھی گنا ہوں سے گندے ہو گئے ہیں جو ان کے ساتھ غلاظتیں چمٹ گئی ہیں اس کو آلودگی کہتے ہیں۔فرماتے ہیں میرے دل میں خدا نے جوش پیدا کر دیا ہے کہ دن رات ان کو دور کرنے کی ، پاک وصاف کرنے کی کوشش کرتا رہوں اور ان کے لئے وہ نو ر مانگوں جس سے انسان مس شیطان کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔یہ وہی نور ہے جس کا ان آیات کریمہ میں ذکر فرمایا گیا تھا۔اس کے بغیر دنیا میں انقلاب بر پا ہوہی نہیں سکتا۔وہی محمد رسول اللہ کا نور جس سے دوسرے گھر روشن ہوئے ، جب وہ روشن ہوئے تو ان کے مرتبے بلند کئے گئے ان کو ارفع کیا گیا۔دو وجوہات تھیں ایک اس لئے کہ وہ نور اپنی ذات میں ایک خاصیت رکھتا ہے کہ جس گھر میں ہو وہاں اس کو بلند کر دیتا ہے اور ذکر کی بلندی سے اس کا تعلق ہے اور جہاں ذکر بلند ہو گا وہاں نور بھی بلند ہو گا۔دوسرا اس لئے کہ بلند ہوگا تو لوگ فائدہ اٹھائیں گے۔وہ آگ جس نے موسی کو متوجہ کیا تھا وہ بلندی پر چمکی تھی تو اس کو پتا چلا تھا اگر کسی گڑھے میں پڑی ہوتی تو موسی کو کیا فائدہ پہنچتا اور بنی اسرائیل کو کیا فائدہ پہنچتا۔وہ تاریخ ہی بے نور ہو کے رہ جاتی جس تاریخ کا آغاز موسیٰ سے شروع ہوا۔پس آپ فرماتے ہیں کہ وہ نور ہے جو میں مانگ رہا ہوں جس سے انسان نفس اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے اور بالطبع خدا تعالیٰ کی راہوں سے محبت کرتا ہے“ یہ وہ پاک انقلاب ہے جس کے بغیر ہم کوئی انقلاب دنیا میں برپا نہیں کر سکتے۔خدا کی راہوں سے محبت کرنا اور بات ہے کر بالطبع خدا کی راہوں سے محبت کرنا کچھ اور بات ہے۔بالطبع کا مطلب ہے جس طرح آپ بھوکے ہوں تو کھانا اچھا لگتا ہے، پیاس لگی ہو تو پانی کی طرف لپکتے ہیں، کسی چیز کی تمنا ہو اس کی بھوک ہو تو از خود اس کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں۔فرمایا بالطبع خدا کی راہوں سے محبت کرے۔ان کو بتا بتا کر نہ لانا پڑے، ان کو سمجھا سمجھا کر یہ راہیں نہ دکھائی جائیں، ان کا دل طبعی جوش کے ساتھ ان راہوں کی طرف متوجہ رہے اور دیکھتے رہیں کہ کہاں وہ راہ نظر آئے تو اس پر دوڑیں اور اس پر قدم ماریں اور ان کے لئے وہ روح القدس طلب کروں جو ربوبیت تامہ اور عبودیت خالصہ کے جوڑ سے پیدا ہوگی۔اب بتائیے ربوبیت تامہ کا مطلب ہے وہ ربوبیت یعنی