خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 202
خطبات طاہر جلد 13 202 خطبه جمعه فرموده 18 / مارچ 1994 ء مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس کلمہ واحدہ کی طرف بلایا ہے یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے یہ بعینہ حقیقت ہے کہ توحید سے رشتہ جوڑو گے تو اتفاق ہوگا تو حید سے رشتہ ٹوٹے گا تو مشرک بن جاؤ گے، اور تتر بتر ہو جاؤ گے کوئی تمہاری طاقت باقی نہیں رہے گی ، کوئی نور تمہارے اندر نہیں ہوگا۔مشرک جس طرح آگ کی پوجا کرتے ہیں تم آگ کے پجاری بن جاؤ گے اپنے نفس کے غضب کی آگ کی پوجا کیا کرو گے اور لوگوں پر بھی آگ کا عذاب بھڑ کا ؤ گے۔پھر فرماتے ہیں اسلام کی پاک اور مقدس خدمات میں جلد کام آ سکیں اور ایک کاہل اور بخیل و بے مصرف اور جو نے مصرف مسلمان نہ ہوں۔ایسے نہ ہوں جن میں سستی پائی جاتی ہو جو بجل سے کام لینے والے ہوں اور بے مصرف ہوں، کوئی فائدہ ان کا نہ ہو اور نہ نالائق لوگوں کی طرح جنہوں نے اپنے تفرقہ اور نا اتفاقی کی وجہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے امر واقعہ یہ ہے کہ اگر آپ تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں تو اگر تفرقہ نہ ہوتا آج ناممکن تھا کہ اسلام کے سوا کوئی اور مذہب دنیا میں ہوتا۔تمام ترقی کی رور کی ہے تو ہر قدم پر تفرقہ کی وجہ سے رکی ہے۔اگر جمیعتوں میں انتشار پیدا ہوا ہے تو ہر قدم پر تفرقہ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، جو شرک سے پیدا ہوتا ہے۔فرماتے ہیں ان کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اپنے تفرقہ اور نا اتفاقی کی وجہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور اس کے خوبصورت چہرہ کو اپنے فاسقانہ حالتوں سے داغ لگایا ہے“ اب جولڑنے والے لوگ ہیں وہ فاسق ہوتے ہیں یہ بھی بتا دیا وہ لوگ جن کے دل پھٹے ہوئے ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے جدا کرنے والی باتیں کرتے ہیں ان کی زندگی پر غور کر کے دیکھو۔بدعمل فاسق لوگ اگر ان کا فسق دکھائی نہ بھی دیتا ہو تو ہیں وہ فاسق کیونکہ جو اندرونی طور پر اپنی عبادت کرتا رہے اس سے بڑا فاسق اور کون ہو سکتا ہے۔شرک اور فسق دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔فرماتے ہیں اسلام کے چہرے پر داغ ہے اب جہاں جہاں یہ واقعات ہوتے ہیں وہاں بعض دفعہ غیر احمدی بھی مجھے خط لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی یہ آپ کی جماعت ہے۔کہتے ہیں کہ ہم جماعت میں تو نہیں مگر جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، ایک محبت اور احترام کا رشتہ ہے مگر ان لوگوں کو دیکھیں ان کے چہرے دیکھیں ان کے کردار دیکھیں تو گھن آتی ہے اور یقین نہیں آتی کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ منسلک ہو کے ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔بعض لوگ یہ کہتے ہیں، بعض لوگ طعنہ دے