خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 201

خطبات طاہر جلد 13 201 خطبہ جمعہ فرموده 18 / مارچ 1994ء آج جب میں آپ کو بار بار دعوت الی اللہ کی طرف بلا رہا ہوں اور بتلا رہا ہوں کہ وہ دن آ گئے ہیں جبکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تیزی سے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام دنیا پر پھیلے، رفتاریں تبدیل کی جا چکیں ہیں، تیز ہوائیں چل رہی ہیں جو آپ کی تائید میں چل رہی ہیں۔اس کے باوجود اگر آپس میں الجھ کر آپ نے ان برکتوں سے فیض نہ پایا اور اپنی عمریں گنوا بیٹھے تو بہت برا گناہ ہے۔اور ایسی نحوست ہے کہ جن کے حصے میں آئے تو وہ نہ پیدا ہوتے تو اس سے بہتر تھا اور بہت بہتر تھا اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔بھاری گروہ دنیا پر اپنا نیک اثر ڈالے اور ان کا اتفاق اسلام کے لئے برکت و عظمت نتائج خیر کا موجب ہو۔یہ کیوں نہیں کہہ دیا وہ خیر کا موجب ہو ایک عام آدمی کی تحریر ہو اس کا دماغ یہاں اتفاق کی طرف جاہی نہیں سکتا۔اس نے جب یہ کہہ دیا کہ ساری جمعیت اثر ڈالے تو بیچ میں اتفاق کا خیال کیسے آگیا۔یہ عارف باللہ کا کلام ہے وہ جس سے خدا ہم کلام ہو، جس کو نور عطا کرتا ہے۔خود آپ کے کلام کو زندہ فرماتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں اثر ڈالے اور ان کا اتفاق اسلام کے لئے برکت و عظمت و نتائج خیر کا موجب ہو۔اور وہ یہ برکت کلمہ واحدہ ، اب دیکھیں کیسے جوڑا ہے کہتے ہیں اپنے واحدہ کلمہ جو سب میں مشترک ہے اور جو کلمہ توحید کی طرف بلا رہا ہے۔اس سے برکت پائیں اس پر متفق ہونے کے بعد اسلام کی پاک اور مقدس خدمات میں جلد کام آدیں۔تو توحید کا اتفاق سے جو ہمیں جماعتوں کے اندر ملنا چاہئے جو بعض دفعہ دکھائی نہیں دیتا ایک گہرا اور اٹوٹ رشتہ ہے۔اگر آپ واحد ہیں تو آپ میں لازما وہ اتفاق پیدا ہوں گے جس کے نتیجے میں بکھری ہوئی جمیعتیں بھی دوبارہ جمیعتیں اختیار کر جائیں گی۔لیکن وہ لوگ جن کی نحوست سے جمیعتیں بکھرنے لگتی ہیں وہ مشرک ہیں۔ان کا توحید سے کوئی تعلق نہیں۔جب میں مشرک کہتا ہوں تو پورے یقین کے ساتھ اس مضمون کو سمجھ کر کہ رہا ہوں۔انہوں نے اپنے نفسوں میں بت بنارکھے ہیں، ان کی انا نیت ہے جس کی وہ پوجا کرتے ہیں۔دن رات انا کے سوا اور کسی کی عبادت کی ہوش ہی کوئی نہیں۔اپنی اور اپنی اولاد کی انا ایسی غالب آجاتی ہے کہ جب اختلاف ہوں تو اپنے بھائی پر شدید ظلم کرنے پر تل پڑتے ہیں اور اپنا بیٹا اگر کوئی طاقتور ہے تو اس کو بھیجیں گے کہ اس کو مار مار کے اڑا دو، وہ ہوتا کون ہے جو ہمارے سامنے کھڑا ہو؟ اور سمجھتے ہیں کہ اب دیکھو ہم بڑے ثابت ہوئے کہ نہیں تو حضرت