خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 203
خطبات طاہر جلد 13 203 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 / مارچ 1994ء کر پھر دور بھی ہٹ جاتے ہیں مگر بہت سے شرفاء ہیں جو بات سمجھتے ہیں کہ یہی ایک دو گندے لوگ ہیں مگر ویسے جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے سرسبز درخت ہے لیکن داغ لگانے والے ضرور ہیں لیکن اس ماحول میں جن کو جماعت احمدیہ سے واقفیت نہیں ہے ان پر ان کا کیا اثر پڑتا ہو گا؟ ان لوگوں کا اثر نہ پڑنا ایک خیر و برکت ہے الحمد للہ کہ ان کا اثر نہیں پڑتا اور نہ اگر یہ احمدی بنائیں گے تو کیسے منحوس چہروں والے احمدی بنائیں گے۔ایسے ذلیل اور رسوا احمدیوں کی جماعت کو کوئی ضرورت نہیں۔پس شکر ہے کہ ان میں تبلیغ کی برکت بھی نہیں، پھیلنے کی برکت سے محروم ہیں کیونکہ اگر بنا ئیں گے تو اپنے جیسا بنائیں گے۔پس بد کار آدمی کا اولاد سے محروم رہنا ہی بہتر ہے۔حضرت نوح نے جو اللہ تعالیٰ کے حضور التجا کی اس میں ایک یہ بات بڑی سچی بیان کی کہ اے خدا ان سب کو اٹھا لے کیونکہ اب یہ فاسق و غاصب جنیں گے، میں دیکھ چکا ہوں کہ ان میں نیک لوگ جننے کی صلاحیت ہی باقی نہیں۔پس اس قوم کے زندہ رہنے کا کیا فائدہ جو آئندہ فاسق و فاجر نسلیں اپنے پیچھے چھوڑ کے جانے والی ہو۔کتنی پر حکمت دعا ہے۔پس یہ بھی شکر ہے کہ جن جماعتوں میں اتفاق نہیں ہے وہاں سے تبلیغ کی برکت ویسے ہی اٹھ جاتی ہے۔طبعا اپنے جیسے لوگ پیدا کریں گے۔فاسقانہ حالتوں سے داغ لگا دیئے۔”نہ ایسے غافل درویشوں گزینوں کی ضرورت ہے۔نہ ایسے غافل درویشوں گوشہ گزینوں کی طرح جن کو اسلامی ضرورتوں کی کچھ بھی خبر نہیں اور اپنے بھائیوں کی ہمدردی سے کچھ غرض نہیں ، پس نہ تو مجھے اس طرح کے کاہل اور بد اعمال فاسق فاجر چاہئیں جو افتراق پیدا کر دیتے ہیں اور ہر طرف بغض پھیلا دیتے ہیں اور ان کے اندر نشو ونما کی طاقتیں ختم ہو جاتیں ہیں ، نہ مجھے ایسے درویش لوگ چاہئیں جو گوشوں میں موج مار کر بیٹھ جائیں اور دنیا کی بھلائی سے اور دنیا کی خیر وشر سے بالکل تعلق کاٹ لیں۔ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہواگر نیک ہوں گے تو اپنے گھر میں اپنے لئے ہوں گے۔اسلام کو کیا فائدہ ان سے پہنچ سکتا ہے؟ پس فرماتے ہیں مجھے ایسے بھی نہیں چاہئیں۔مجھے مجاہد، میدانِ عمل میں نکل کھڑے ہونے والےلوگ چاہئیں۔فرماتے ہیں اور بنی نوع کی بھلائی کے لئے کچھ جوش نہیں بلکہ وہ ایسے قوم کے ہمدرد ہوں کہ غریبوں کی پناہ ہو جائیں، یہاں غریبوں کے ساتھ کوئی مذہب بیان نہیں فرمایا ہر غریب کا ایک ہی مذہب غربت ہے۔فرمایا وہ غریبوں کی پناہ ہو جائیں یتیموں کے لئے بطور باپوں کے جائیں اور اسلامی کاموں کے انجام دینے کی طرح عاشق زار کی طرح فدا ہونے کو تیار ہوں“ جو