خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 200
خطبات طاہر جلد 13 200 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 / مارچ 1994ء ہیں وہ فسادوں پر غالب آ جایا کرتے ہیں ان کا تقویٰ، ان کا انکسار بدیوں کو زائل کر دیتا ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ اتفاق کا نقطہ پیش فرمایا ہے اگر اس نقطے کو سامنے رکھیں تو ایک لمحہ بھی یہ لڑائی جاری نہیں رہتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔بچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلیل کرو۔“ ( کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ: 12) اگر تم میرے ہو تو ایک کام کرو، بچے سمجھو اپنے آپ کو لیکن تذلل جھوٹوں والا، ایسے آدمی کی طرح گر جاؤ زمین پر ، انکساری دکھاؤ جیسے جھوٹے پر جب جھوٹ ثابت ہو جاتا ہے تو وہ چھپتا ہے اور معافیاں مانگتا ہے اور اپنے آپ کو کوستا ہے کہ مجھ سے کیا غلطی سرزد ہوئی۔یہ نہیں فرمایا کہ اپنے آپ کو جھوٹا کہو کیونکہ سچے ہو کر اپنے آپ کو جھوٹا تو کہا نہیں جاسکتا۔اس لئے سمجھتے رہوسچا یہ نہیں فرمایا کہ کہو کوئی تو سچا ہوگا کیسی پاکیزہ نصیحت ہے اور فقرہ کی بناوٹ پر غور کر کے دیکھیں کتنا عظیم اور شان رکھتا ہے اپنے اندر، فرماتا ہے بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل ، جھوٹا نہیں لیکن تذلل اختیار کرو، گر جاؤ، انکساری دکھاؤ، ہمارا قصور تھا ہمیں معاف کر دو۔یہ نسخہ استعمال نہیں کرتے اور جھوٹے بھی سچے بن رہے ہوں تو پھر کیسے اصلاح ہو۔جب جھوٹے بچے بنتے ہوں تو تبھی جھگڑے ہوتے ہیں اور وہ دونوں فریق کا جن میں تکبر پایا جاتا ہو، جن میں انانیت ہو، جو یہ سمجھتے ہوں کہ ہم اس کو نیچا دکھا ئیں گے تو دل ٹھنڈا ہو۔ان کی آگ نہیں بجھتی ، وہ آگ دوسری چیزوں کو بھی جلاتی ہے اور آگ اور نور میں فرق ہے۔جن آیات کی میں نے تلاوت کی ہے ان پر غور کریں وہ نور ہے جس کی طرف بلایا جا رہا ہے، آگ کی طرف نہیں بلایا جا رہا ہے۔حضرت موسیٰ آگ سمجھ کر گئے تھے تو ملانور ہی تھا اور نور ہی ہے جو زندگی بخشا کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ ایک نور تھے اور یہ نور گھروں میں پھیلا ہے اگر تمہارے سینے جل رہے ہوں ان میں بغض ہو، ان میں حسد ہو، ان میں تکبر ہو، ان میں سفلہ پن ہو تو پھر دوسرے دلوں میں آگ لگاؤ گے۔نور نہیں بھر سکتے۔بس اتفاق کی برکت جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرف توجہ دلائی ہے ہماری بقا کے لئے ضروری ہے۔ناممکن ہے کہ ہم زندہ رہ سکیں بغیر اتفاق کے اور ایسے اتفاق کے بغیر جس کی طرف مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بلاتے ہیں ہمارا نور دنیا میں پھیل نہیں سکتا، ہماری طاقتیں آپس میں ہی الجھ کے ختم ہو جائیں گی۔